حدیث نمبر: 12190
عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ جَلَسْتُ إِلَى شَيْبَةَ بْنِ عُثْمَانَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ فَقَالَ جَلَسَ إِلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مَجْلِسَكَ هَذَا فَقَالَ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَدَعَ فِيهَا صَفْرَاءَ وَلَا بَيْضَاءَ إِلَّا قَسَمْتُهَا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ قَالَ قُلْتُ مَا أَنْتَ بِفَاعِلٍ قَالَ لِمَ قُلْتُ لَمْ يَفْعَلْهُ صَاحِبَاكَ قَالَ هُمَا الْمَرْآنِ يُقْتَدَى بِهِمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

ابو وائل سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں : میں مسجد نبوی میں شیبہ بن عثمان کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اسی طرح میرے قریب آ کر بیٹھ گئے جیسے تم بیٹھے ہو ، انہوں نے کہا : میں چاہتا ہوں کہ کعبہ کے اندر جس قدر سونا اور چاندی ہے ، اسے مسلمانوں میں تقسیم کر دوں ، میں نے کہا : آپ یہ کام نہیں کریں گے ۔ انہوں نے کہا : کیوں ؟ میں نے کہا : یہ کام تو آپ سے پہلے آپ کے دونوں ساتھیوں نے نہیں کیا ، یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : وہ دونوں ایسی شخصیات ہیں کہ جن کی اقتدا کی جانی چاہیے ۔

وضاحت:
فوائد: … ویسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواہش یہ تھی کہ کعبہ کے خزانوں کو راہِ خدا میں خرچ کر دیا جائے، جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَوْلَا أَنَّ قَوْمَکِ حَدِیثُو عَہْدٍ بِجَاہِلِیَّۃٍ أَوْ قَالَ بِکُفْرٍ لَأَنْفَقْتُ کَنْزَ الْکَعْبَۃِ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ وَلَجَعَلْتُ بَابَہَا بِالْأَرْضِ وَلَأَدْخَلْتُ فِیہَا مِنْ الْحِجْرِ۔)) اگر تیری قوم کا جاہلیت یا کفر کا زمانہ نیا نیا نہ ہوتا تو میں کعبہ کا خزانہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں کر دیتا اور اس کا دروازہ زمین کے ساتھ لگا دیتا اور حطیم کو اس میں داخل کر دیتا۔ (صحیح مسلم: ۲۳۶۹)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12190
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 1594 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15382 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15457»