الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الْفَضْلُ الأَوَّلُ فِي بَعْضِ مَا وَرَدَ فِي فَضْلِهِ وَاقْتِدَائِهِ بِسَلَفِه باب: فصل: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بعض فضائل اور ان کا اپنے اسلاف کی اقتداء کرنا
عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ جَلَسْتُ إِلَى شَيْبَةَ بْنِ عُثْمَانَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ فَقَالَ جَلَسَ إِلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مَجْلِسَكَ هَذَا فَقَالَ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَدَعَ فِيهَا صَفْرَاءَ وَلَا بَيْضَاءَ إِلَّا قَسَمْتُهَا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ قَالَ قُلْتُ مَا أَنْتَ بِفَاعِلٍ قَالَ لِمَ قُلْتُ لَمْ يَفْعَلْهُ صَاحِبَاكَ قَالَ هُمَا الْمَرْآنِ يُقْتَدَى بِهِمَاابو وائل سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں : میں مسجد نبوی میں شیبہ بن عثمان کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اسی طرح میرے قریب آ کر بیٹھ گئے جیسے تم بیٹھے ہو ، انہوں نے کہا : میں چاہتا ہوں کہ کعبہ کے اندر جس قدر سونا اور چاندی ہے ، اسے مسلمانوں میں تقسیم کر دوں ، میں نے کہا : آپ یہ کام نہیں کریں گے ۔ انہوں نے کہا : کیوں ؟ میں نے کہا : یہ کام تو آپ سے پہلے آپ کے دونوں ساتھیوں نے نہیں کیا ، یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : وہ دونوں ایسی شخصیات ہیں کہ جن کی اقتدا کی جانی چاہیے ۔