حدیث نمبر: 12183
عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا ثَقُلَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا قُلْنَا يَوْمُ الِاثْنَيْنِ قَالَ فَأَيُّ يَوْمٍ قُبِضَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْنَا قُبِضَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ قَالَ فَإِنِّي أَرْجُو مَا بَيْنِي وَبَيْنَ اللَّيْلِ قَالَتْ وَكَانَ عَلَيْهِ ثَوْبٌ فِيهِ رَدْعٌ مِنْ مِشْقٍ فَقَالَ إِذَا أَنَا مِتُّ فَاغْسِلُوا ثَوْبِي هَذَا وَضُمُّوا إِلَيْهِ ثَوْبَيْنِ جَدِيدَيْنِ فَكَفِّنُونِي فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ فَقُلْنَا أَفَلَا نَجْعَلُهَا جُدُدًا كُلَّهَا قَالَ فَقَالَ لَا إِنَّمَا هُوَ لِلْمُهْلَةِ قَالَتْ فَمَاتَ لَيْلَةَ الثُّلَاثَاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب ابو بکر رضی اللہ عنہ شدید بیمار ہو گئے تو پوچھا کہ آج کو نسا دن ہے؟ ہم نے کہا: جی آج سوموار ہے، انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس دن فوت ہوئے تھے؟ ہم نے کہا: سوموار کے دن، انہوں نے کہا: مجھے لگتا ہے کہ میں آج رات تک فوت ہو جاؤں گا،انہوں نے ایک کپڑا زیب تن کیا ہوا تھا، اس پر گیرو کا نشان لگا ہوا تھا، انھوں نے کہا: جب میں فوت ہوجاؤں تو میرے اسی کپڑے کو دھولینا اور اس کے ساتھ دو نئے کپڑے ملالینا اورمجھے تین کپڑوں میں کفن دے دینا۔ ہم نے کہا: کیا ہم سارے کپڑے نئے نہ بنا دیں؟ انھوں نے کہا: نہیں، یہ (میت کی) پیپ کے لیے ہیں، پھر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ منگل کی رات کو وفات پا گئے۔

وضاحت:
فوائد: … غور کریں کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو جن تین کپڑوں میں کفن دیا گیا، ان میں سے ایک کپڑا وہی تھا، جو وہ پہلے سے پہنا کرتے تھے، اس کو دھو کر کفن میں شامل کر دیا گیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12183
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 1387 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24186 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24690»