الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الْبَابُ السَّادِسُ فِي مَرْضِهِ وَاحْتِصَارِهِ وَوَفَاتِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: ششم: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیماری، مرض الموت اور وفات کا بیان
عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا ثَقُلَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا قُلْنَا يَوْمُ الِاثْنَيْنِ قَالَ فَأَيُّ يَوْمٍ قُبِضَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْنَا قُبِضَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ قَالَ فَإِنِّي أَرْجُو مَا بَيْنِي وَبَيْنَ اللَّيْلِ قَالَتْ وَكَانَ عَلَيْهِ ثَوْبٌ فِيهِ رَدْعٌ مِنْ مِشْقٍ فَقَالَ إِذَا أَنَا مِتُّ فَاغْسِلُوا ثَوْبِي هَذَا وَضُمُّوا إِلَيْهِ ثَوْبَيْنِ جَدِيدَيْنِ فَكَفِّنُونِي فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ فَقُلْنَا أَفَلَا نَجْعَلُهَا جُدُدًا كُلَّهَا قَالَ فَقَالَ لَا إِنَّمَا هُوَ لِلْمُهْلَةِ قَالَتْ فَمَاتَ لَيْلَةَ الثُّلَاثَاءِسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب ابو بکر رضی اللہ عنہ شدید بیمار ہو گئے تو پوچھا کہ آج کو نسا دن ہے؟ ہم نے کہا: جی آج سوموار ہے، انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس دن فوت ہوئے تھے؟ ہم نے کہا: سوموار کے دن، انہوں نے کہا: مجھے لگتا ہے کہ میں آج رات تک فوت ہو جاؤں گا،انہوں نے ایک کپڑا زیب تن کیا ہوا تھا، اس پر گیرو کا نشان لگا ہوا تھا، انھوں نے کہا: جب میں فوت ہوجاؤں تو میرے اسی کپڑے کو دھولینا اور اس کے ساتھ دو نئے کپڑے ملالینا اورمجھے تین کپڑوں میں کفن دے دینا۔ ہم نے کہا: کیا ہم سارے کپڑے نئے نہ بنا دیں؟ انھوں نے کہا: نہیں، یہ (میت کی) پیپ کے لیے ہیں، پھر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ منگل کی رات کو وفات پا گئے۔