حدیث نمبر: 12180
عَنْ أَوْسَطَ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِسَنَةٍ فَأَلْفَيْتُ أَبَا بَكْرٍ يَخْطُبُ النَّاسَ فَقَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْأَوَّلِ فَخَنَقَتْهُ الْعَبْرَةُ ثَلَاثَ مِرَارٍ ثُمَّ قَالَ ”يَا أَيُّهَا النَّاسُ سَلُوا اللَّهَ الْمُعَافَاةَ فَإِنَّهُ لَمْ يُؤْتَ أَحَدٌ مِثْلَ يَقِينٍ بَعْدَ مُعَافَاةٍ وَلَا أَشَدَّ مِنْ رِيبَةٍ بَعْدَ كُفْرٍ وَعَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ فَإِنَّهُ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ وَهُمَا فِي الْجَنَّةِ وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ فَإِنَّهُ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ وَهُمَا فِي النَّارِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

اوسط بن عمرو سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات سے ایک سال بعد میں مدینہ منورہ آیا، میں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ لوگوں سے خطاب کر رہے تھے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گزشتہ سال ہمارے درمیان کھڑے ہوئے، یہ کہہ کر ان کی آواز آنسوؤں کی وجہ سے بند ہو گئی، تین بار ایسے ہی ہوا، بالآخر کہا:لوگو! اللہ سے عافیت کا سوال کرو، عافیت کے بعد ایمان و ایقان جیسی کوئی نعمت نہیں، جو بندے کو دی گئی ہو، اور نہ کفر کے بعد شک و شبہ سے بڑھ کر کوئی سخت گناہ ہے، تم صدق اور سچائی کو لازم پکڑو، یہ انسان کو نیکی کی طرف لے جاتا ہے، اور صدق اور نیکی کا انجام جنت ہے اور تم جھوٹ سے بچ کر رہو، یہ گناہوں کی طرف لے جاتا ہے اور جھوٹ اور گناہ کا انجام جہنم ہے۔ُُ

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12180
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، اخرجه ابن ماجه: 3849 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 44 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 44»