حدیث نمبر: 12179
(وَعَنْهُ أَيْضًا) عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ خَطَبَ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ هَذِهِ الْآيَةَ وَتَضَعُونَهَا عَلَى غَيْرِ مَا وَضَعَهَا اللَّهُ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ} [المائدة: 105] سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوْا الْمُنْكَرَ بَيْنَهُمْ فَلَمْ يُنْكِرُوهُ يُوشِكُ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ بِعِقَابِهِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

قیس بن ابی حازم سے یہ بھی روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور کہا: لوگو! تم یہ آیت پڑھتے تو ہو مگر تم اس آیت کو اس کے غیر محل پر چسپاں کر رہے ہو، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا عَلَیْکُمْ أَنْفُسَکُمْ لَا یَضُرُّکُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اہْتَدَیْتُمْ} … اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم پر اپنی جانوں کا بچاؤ لازم ہے، تمھیں وہ شخص نقصان نہیں پہنچائے گا جو گمراہ ہے، جب تم ہدایت پا چکے۔ میں نے خود اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ لو گ جب کسی برائی کو اپنے درمیا ن دیکھ کر اس پر انکار نہیں کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان سب لوگوں پر عذاب نازل کر دے گا۔

وضاحت:
فوائد: … حافظ ابن کثیر رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: اللہ تعالیٰ اس آیت میں اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ خود اپنی اصلاح کریں اور اپنی طاقت کے مطابق نیکیوں میں مشغول رہیں، جب وہ خود ٹھیک ٹھاک ہو جائیں گے تو برے لوگوں کا ان پر کوئی بوجھ نہیں پڑے گا، خواہ وہ رشتے دار اور قریبی ہوں، خواہ اجنبی اور دور کے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں: مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عامل ہو جائے، برائیوں سے بچ جائے تو اس پر گنہگار لوگوں کے گناہ کا کوئی بوجھ نہیں ہو گا۔ مقاتل سے مروی ہے کہ ہر عامل کو اس کے عمل کا بدلہ ملتا ہے، بروں کو سزا اور اچھوں کو جزا، اس آیت سے یہ نہ سمجھا جائے کہ اچھی بات کا حکم نہ دیا جائے اور بری باتوں سے منع نہ کیا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12179
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، اخرجه ابوداود: 4338، وابن ماجه: 4005، والترمذي: 2168، 3057 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 53 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 53»