الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الْفَضْلُ الْأَوَّلُ: إِرْسَالُ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ إلى أَبِي بَكْرٍ تَسْأَلُ مِيرَانَهَا مِنْ رَسُولِ ﷺ باب: سوم: صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے دورخلافت میں واقع ہونے والے بعض واقعات کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی میراث کے مطالبہ کرنے کے لیے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجنا
عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ فَاطِمَةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْتَ وَرِثْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمْ أَهْلُهُ قَالَ فَقَالَ لَا بَلْ أَهْلُهُ قَالَتْ فَأَيْنَ سَهْمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَطْعَمَ نَبِيًّا طَعْمَةً ثُمَّ قَبَضَهُ جَعَلَهُ لِلَّذِي يَقُومُ مِنْ بَعْدِهِ“ فَرَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ فَقَالَتْ فَأَنْتَ وَمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَعْلَمُسیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہو اتو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ہاں پیغام بھیجا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وارث آپ ہیں یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر کے افراد؟ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: جی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وارث میں نہیں ہوں، بلکہ آپ کے اہل خانہ ہی ہیں، سیدہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حصہ کہا ں ہے؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جب اپنے کسی نبی کو کوئی چیز عطا کرتا ہے اور اسکے بعد اپنے نبی کی روح کو قبض کر لیتا ہے تو وہ چیز اس کے خلیفہ کے کنٹرول میں آجاتی ہے۔ پس میں نے سوچا ہے کہ میں اسے مسلمانوں میں تقسیم کر دوں، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تو پھر آپ ہی اس کو جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث سنی ہے، بہتر جانتے ہیں۔