حدیث نمبر: 12164
عَنْ رَافِعٍ الطَّائِيِّ رَفِيقِ أَبِي بَكْرٍ فِي غَزْوَةِ السَّلَاسِلِ قَالَ وَسَأَلْتُهُ عَمَّا قِيلَ مِنْ بَيْعَتِهِمْ فَقَالَ وَهُوَ يُحَدِّثُهُ عَمَّا تَكَلَّمَتْ بِهِ الْأَنْصَارُ وَمَا كَلَّمَهُمْ بِهِ وَمَا كَلَّمَ بِهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الْأَنْصَارَ وَمَا ذَكَّرَهُمْ بِهِ مِنْ إِمَامَتِهِ إِيَّاهُمْ بِأَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ فَبَايَعُونِي لِذَلِكَ وَقَبِلْتُهَا مِنْهُمْ وَتَخَوَّفْتُ أَنْ تَكُونَ فِتْنَةٌ تَكُونُ بَعْدَهَا رِدَّةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے غزوۂ سلا سل کے دوران ساتھ رہنے والے رافع طائی نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے ان کی بیعت کے بارے میں کہی جانے والی باتوں کے بارے میں سوال کیا، پس انھوں نے وہ کچھ بیان کیا، جو انصار نے کہا، جو انھوں نے خود بیان کیا اور پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کے جواب میں جو کچھ کہا، سیدنا عمر نے بیچ میں یہ بات بھی ذکر کی کہ میں (ابوبکر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مرض الموت کے دوران میں امامت کراتا رہا، پس پھر لوگوں نے میری بیعت کی اور میں نے ان سے ان کی بیعت قبول کی، لیکن مجھے ڈرتھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی ایسا فتنہ بپا ہو جائے کہ جس کے بعد لوگ دین سے مرتد ہونا شروع ہو جائیں۔

وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس ڈر سے امامت و خلافت کا منصب قبول کر لیا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ امت کسی بڑے فتنے میں مبتلا ہو جائے۔ یہ سارے معاملات سوموار کے باقی دن میں طے ہو گئے تھے، دوسرے روز صبح مسجد میں تمام مہاجرین و انصار نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تجہیز و تکفین سے پہلے یہ امور طے ہو گئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تجہیز و تکفین کاسلسلہ منگل کے دن شروع ہوا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12164
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده جيّد ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 42 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 42»