الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الْبَابُ الأَوَّلُ فِي ذِكْرِ الأَحَادِيثِ الْمُشِيرَةِ إِلَى خِلَافَتِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: اول: ان احادیث کا بیان جن میں ان کی خلافت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) قَالَتْ لَمَّا كَانَ وَجَعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ قَالَ ”ادْعُوا لِي أَبَا بَكْرٍ وَابْنَهُ فَلْيَكْتُبْ لِكَيْلَا يَطْمَعَ فِي أَمْرِ أَبِي بَكْرٍ طَامِعٌ وَلَا يَتَمَنَّى مُتَمَنٍّ“ ثُمَّ قَالَ ”يَأْبَى اللَّهُ ذَلِكَ وَالْمُسْلِمُونَ“ مَرَّتَيْنِ وَقَالَ مُؤَمَّلٌ مَرَّةً وَالْمُؤْمِنُونَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَأَبَى اللَّهُ وَالْمُسْلِمُونَ إِلَّا أَنْ يَكُونَ أَبِي فَكَانَ أَبِي۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مرض الموت میں مبتلا تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ابو بکر اور ان کے بیٹے کو میرے پاس بلا کر لاؤ، تاکہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے معاملے میں کوئی لالچی لالچ نہ کرے اور اس امر کی خواہش رکھنے والا اس چیز کی خواہش نہ کرے۔ آپ نے یہ کلمہ دو مرتبہ ارشاد فرمایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اور مسلمانوں نے اس چیز کا انکار کر دیا ہے (ما سوائے ابو بکر کے)۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ نے اور مسلمانوں نے اس چیز کے لیے لوگوں کا انکار کر دیا ہے، ما سوائے میرے باپ کے اور پھر میرے باپ ہی خلیفہ بنے۔
یہ روایات اس بات کا قطعی ثبوت ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلیفۂ اول سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہی ہیںاور عملا ایسے ہی ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد سقیفہ بنی ساعدہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، ارباب ِ حل و عقد اور پھر تمام مسلمانوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کی۔ جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کا بین ثبوت ہے۔
اگر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کسی شرعی دلیل سے ثابت نہ بھی ہوتی تو ان کی خلافت کے بر حق ہونے کے لیے صحابہ کرام کا اجماع و اتفاق ہی کافی تھا۔ مزید دیکھیں حدیث نمبر (۱۰۹۹۴)