الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الْبَابُ الأَوَّلُ فِي ذِكْرِ الأَحَادِيثِ الْمُشِيرَةِ إِلَى خِلَافَتِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: اول: ان احادیث کا بیان جن میں ان کی خلافت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے
حدیث نمبر: 12160
وَعَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ”ائْتِنِي بِكَتِفٍ أَوْ لَوْحٍ حَتَّى أَكْتُبَ لِأَبِي بَكْرٍ كِتَابًا لَا يُخْتَلَفُ عَلَيْهِ“ فَلَمَّا ذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لِيَقُومَ قَالَ ”أَبَى اللَّهُ وَالْمُؤْمِنُونَ أَنْ يُخْتَلَفَ عَلَيْكَ يَا أَبَا بَكْرٍ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شدید بیمار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم میرے پاس کندھے کی چوڑی ہڈی یا ایک تختی لے کر آؤ تاکہ میں ابو بکر رضی اللہ عنہ کے حق میں ایک تحریر لکھ دوں، تاکہ اس پر اختلاف ہی واقع نہ ہو۔ جب عبدالرحمن اٹھ کر جانے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو بکر! اللہ اور اہل ایمان نے اس بات سے انکار کر دیا ہے کہ تجھ پر اختلاف کیا جائے۔