الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الْبَابُ الأَوَّلُ فِي ذِكْرِ الأَحَادِيثِ الْمُشِيرَةِ إِلَى خِلَافَتِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: اول: ان احادیث کا بیان جن میں ان کی خلافت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے
حدیث نمبر: 12157
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعَمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمَتْهُ فِي شَيْءٍ فَأَمَرَهَا بِأَمْرٍ فَقَالَتْ أَرَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ لَمْ أَجِدْكَ قَالَ ”إِنْ لَمْ تَجِدِينِي فَأْتِي أَبَا بَكْرٍ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک خاتو ن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے کسی معاملہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بات کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے حق میں کوئی حکم فرمایا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر میں آؤں اور آپ کو نہ پاؤں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم مجھے نہ پاؤ تو ابو بکر کے پاس چلی جانا۔
وضاحت:
فوائد: … اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد مسئول سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ہوں گے۔