حدیث نمبر: 12152
عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْكَعْبَةِ قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ بَيْنَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا وَفِيهِ ”وَمَنْ بَايَعَ إِمَامًا فَأَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ فَلْيُطِعْهُ مَا اسْتَطَاعَ فَإِنْ جَاءَ آخَرُ يُنَازِعُهُ فَاضْرِبُوا عُنُقَ الْآخَرِ“ قَالَ فَأَدْخَلْتُ رَأْسِي مِنْ بَيْنِ النَّاسِ فَقُلْتُ أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى أُذُنَيْهِ فَقَالَ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي قَالَ فَقُلْتُ هَذَا ابْنُ عَمِّكَ مُعَاوِيَةُ يَعْنِي يَأْمُرُنَا بِأَكْلِ أَمْوَالِنَا بَيْنَنَا بِالْبَاطِلِ وَأَنْ نَقْتُلَ أَنْفُسَنَا وَقَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ} [النساء: 29] قَالَ فَجَمَعَ يَدَيْهِ فَوَضَعَهُمَا عَلَى جَبْهَتِهِ ثُمَّ نَكَسَ هُنَيَّةً ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ أَطِعْهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ وَاعْصِهِ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

عبد الرحمن بن عبد ِربّ ِکعبہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عاص رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ اس وقت کعبہ کے سائے میں تشریف فرما تھے، میں نے ان کو سنا، وہ کہہ رہے تھے: ہم ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں سفر میں تھے، پھر انہو ں نے طویل حدیث بیان کی، اس کا ایک اقتباس یہ تھا: جس نے کسی حکمران کی بیعت کی اور اس سے معاہدہ کیا اور اس کو دل کا پھل دے دیا، تو وہ حسب ِ استطاعت اس کی اطاعت کرے، اگر کوئی دوسرا آدمی آکر اس پہلے حاکم سے اختلا ف کرے تو بعد والے کی گردن اڑادو۔ عبد الرحمن کہتے ہیں: یہ سن کر میں نے اپنا سر لوگوں کے درمیان میں داخل کیا اور کہا: میں تم کو اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تم نے یہ حدیث اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خود سنی ہے؟ انہوں نے اپنے ہاتھوں کے ذریعے اپنے کانوں کی طرف اشارہ کیا اور کہا: اس حدیث کو میرے کانوں نے سنا اور میرے دل نے اس کو محفوظ کیا۔ عبدالرحمن نے کہا: یہ آپ کا چچازاد بھائی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہم آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل اور ناجائز طریقوں سے کھائیں اور ایک دوسرے کو قتل کریں، جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا لَا تَأْکُلُوْا أَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ} … اے ایمان والو! تم اپنے اموال آپس میں باطل طریقوں سے مت کھاؤ۔ یہ سن کر انہو ں نے اپنے دونوں ہاتھ اکٹھے کیے اور انہیں اپنی پیشانی کے اوپر رکھا اور پھر کچھ دیر سر جھکا کر بیٹھے رہے، پھر کچھ دیر بعد سر اٹھایا اور کہا: اللہ کی اطاعت کا کام ہوتو ان کی اطاعت کرو اور اللہ تعالیٰ کی معصیت اور نافرمانی ہوتو ان کی بات نہ مانو۔

وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ اگر خلیفۃ المسلمین موجود ہوتو ہر صورت میں اس کی بیعت کر کے زندگی گزارنی چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12152
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 1844 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6503 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6503»