الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الْفَضْلُ الثَّانِي فِي وُجُوبِ الْبَيْعَةِ وَلُزُومِهَا وَعَدْمِ التَّخَلَّى عَنْهَا باب: فصل دوم: اس امر کا بیان کی بیعت کرنا اور اس پر پابند رہنا ضروری ہے اور بیعت کے بغیر رہنا درست نہیں
عَنْ مُسْلِمِ بْنِ قَرَظَةَ وَكَانَ ابْنَ عَمِّ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”خِيَارُ أَئِمَّتِكُمْ مَنْ تُحِبُّونَهُمْ وَيُحِبُّونَكُمْ وَتُصَلُّونَ عَلَيْهِمْ وَيُصَلُّونَ عَلَيْكُمْ وَشِرَارُ أَئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تُبْغِضُونَهُمْ وَيُبْغِضُونَكُمْ وَتَلْعَنُونَهُمْ وَيَلْعَنُونَكُمْ“ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا نُنَابِذُهُمْ عِنْدَ ذَلِكَ قَالَ ”لَا مَا أَقَامُوا لَكُمُ الصَّلَاةَ أَلَا وَمَنْ وُلِّيَ عَلَيْهِ أَمِيرٌ وَالٍ فَرَآهُ يَأْتِي شَيْئًا مِنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ فَلْيُنْكِرْ مَا يَأْتِي مِنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ وَلَا يَنْزِعَنَّ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ“سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہترین حکمران وہ ہیں کہ جن سے تم محبت کرو اور وہ تم سے محبت کریں اور تم ان کے حق میں رحمت کی دعائیں کرو اور وہ تمہارے حق میں رحمت کی دعائیں کریں اور تمہارے بد ترین حکمران وہ ہیں کہ جن سے تم بغض رکھو اور وہ تم سے بغض رکھیں اور تم ان پر لعنتیں کرو اور وہ تم پر لعنتیں کریں۔ ہم نے کہا: اللہ کے رسول! کیا ایسی صورت حال میں ہم ان سے الگ تھلگ نہ ہوجائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، جب تک وہ نما زکی پابندی کریں، تم ان سے الگ نہیں ہوسکتے، خبردار! تم میں سے کسی پر کوئی آدمی امیر اورحکمران ہو اور وہ اپنے امیر کو اللہ کی معصیت کا کام کرتے ہوئے دیکھے تو وہ اللہ تعالیٰ کی اس معصیت کا انکار کرے اور اس کی اطاعت سے اپنا ہاتھ نہ کھینچے۔