حدیث نمبر: 12147
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَنْ خَرَجَ مِنَ الطَّاعَةِ وَفَارَقَ الْجَمَاعَةَ فَمَاتَ فَمِيتَتُهُ جَاهِلِيَّةٌ وَمَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَايَةٍ عِمِّيَّةٍ يَغْضَبُ لِعَصَبَتِهِ وَيُقَاتِلُ لِعَصَبَتِهِ وَيَنْصُرُ عَصَبَتَهُ فَقُتِلَ فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ وَمَنْ خَرَجَ عَلَى أُمَّتِي يَضْرِبُ بَرَّهَا وَفَاجِرَهَا لَا يَتَحَاشَى لِمُؤْمِنِهَا وَلَا يَفِي لِذِي عَهْدِهَا فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی امام اور حاکم کی اطاعت سے نکل گیا اور مسلمانوں کی جماعت کو چھوڑ گیا اور اسی حالت میں اس کو موت آ گئی تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا، جو اندھا دھند جھنڈے کے نیچے لڑا، جس میں وہ عصبیت کی بنا پر غصے ہوتا ہے اور تعصب کی بنا پر مدد کرتا ہے اور پھر اسی حالت میں قتل ہو جاتا ہے تو اس کا قتل بھی جاہلیت والا ہو گا او رجو آدمی میری امت پر بغاوت کرتے ہوئے نکلا اور نیکوں اور بروں کو مارتا گیا،نہ اس نے اہل ایمان کا لحاظ کیا اور نہ عہد والے کا عہد پورا کیا، اس کا مجھ سے اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں۔

وضاحت:
فوائد: … جو آدمی امام کی اطاعت ترک کر دیتاہے، اسلامی جماعت سے دور ہو جاتا ہے اورمسلمانوں کے اتفاق و اتحاد کی مخالفت کرتا ہے اور اسی حالت میں مر جاتا ہے تو وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے، کیونکہ وہ اس وقت بھی شتر بے مہار تھا اور اب بھی ہے۔
اس دور میں خاندانی عصبیت اور قبائلی انانیت عروج پر ہے، اللہ تعالیٰ کے نام پر دوستی و یاری عنقا بن چکی ہے۔ سیاستوں کے چکر ہیں، قومیّتوں کے چکر ہیں، تعلقاتِ قدیمہ کے چکر ہیں، جھوٹی محبتوں کے دعوے ہیں۔ ان چکروں میں پڑ کر اور حق و باطل کو پسِ پشت ڈال کر تیر وکمان کا تبادلہ ہوتا ہے، برس ہا برس قطع تعلقی میں گزر جاتے ہیں، بعض خاندانوں میں عداوت و کدورت وہ مقام حاصل کر چکی ہے کہ شاید اسلام اور کفر کے نام پر بننے والے دشمن اس کے سامنے شرما جائیں۔
قارئین کرام! آؤ اور اسلام کے نام پر جیو، اسی زندگی کو اپنا اعزاز اور منصب ِ انسانی سمجھو۔ حدیث میں باقی بیان کردہ امور واضح ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12147
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 1848، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7944 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7931»