حدیث نمبر: 12146
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ”إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَتْ تَسُوسُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَ نَبِيٌّ وَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي إِنَّهُ سَيَكُونُ خُلَفَاءُ فَتَكْثُرُ“ قَالُوا فَمَا تَأْمُرُنَا قَالَ ”فُوا بِبَيْعَةِ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ وَأَعْطُوهُمْ حَقَّهُمُ الَّذِي جَعَلَ اللَّهُ لَهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ سَائِلُهُمْ عَمَّا اسْتَرْعَاهُمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بنو اسرائیل کی قیادت ان کے انبیاء کرتے تھے، جب ایک نبی فو ت ہوجاتا تو دوسر ا آجاتا، اب میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، البتہ خلفاء بکثرت ہوں گے۔ صحابہ نے کہا: تو پھر آپ ہمیں ان کے بارے میں کیا حکم دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم پہلے خلیفہ سے کی گئی بیعت کوپورا کرنا، پھر جو اس کے بعد ہو، اس کی بیعت کو پورا کرنا اوراللہ نے ان کے لیے جو حقوق مقرر کیے ہیں، وہ ادا کرنا، رہا مسئلہ تمہارے حقوق کا تو اللہ تعالیٰ ان سے ان کی رعایا کے بارے میں پوچھے گا۔

وضاحت:
فوائد: … حکمران اور رعایا، ہر ایک کے دوسرے پر حقوق ہیں اور ان حقوق کی ادائیگی کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ دوسرا فریق بھی حقوق پورا کر رہا ہو، اگر حکمران ظالم ہو تو اس کے مقابلے میں عوام کو ظلم کرنے کی اجازت نہیں ہے، بلکہ اس کے ظلم کے باوجود رعایا سے یہ مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ اپنے حکمران کے ہر ممکن حق کو پورا کرے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12146
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 3455، ومسلم: 1842 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7960 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7947»