حدیث نمبر: 12145
وَعَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَنْ مَاتَ وَلَيْسَتْ عَلَيْهِ طَاعَةٌ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً فَإِنْ خَلَعَهَا مِنْ بَعْدِ عَقْدِهَا فِي عُنُقِهِ“ (وَفِي رِوَايَةٍ ”بَعْدَ عَقْدِهِ إِيَّاهَا فِي عُنُقِهِ“) ”لَقِيَ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَلَيْسَتْ لَهُ حُجَّةٌ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اس حال میں مرا کہ اس نے اپنے اوپر کسی امام کی اطاعت کو لازم نہیں کیا تھا، یعنی کسی کو اپنا امام تسلیم نہیں کیا تھا، و ہ جاہلیت کی موت مرا اور جس نے اپنی گردن سے کسی امام کی اطاعت کا ہار اتارپھینکا، وہ اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے گا کہ اللہ کے ہاں پیش کرنے کے لیے اس کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوگی۔

وضاحت:
فوائد: … اگر مسلمانوں کی جماعت موجود ہو تو اس میں شامل ہونا اور اس کے حاکم کو اپنا امیر تسلیم کر کے اس کی اطاعت کرنا فرض ہے۔ لیکن موجودہ دور میں اہل اسلام کا شیرازہ بکھر چکا ہے۔ قوانین و ضوابط میں پابند ہو کر پروان چڑھنے والی قوم انتظام و انصرام سے یکسر ناواقف ہو چکی ہے۔ فَأِلَی اللّٰہِ الْمُشْتَکیٰ۔
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: آپ کو علم ہونا چاہیے کہ اس حدیث میں مذکورہ وعید اس شخص کے حق میں ہے، جس نے خلیفۂ مسلمین کی بیعت نہ کی ہو اور ان سے علیحدہ ہو گیا ہو۔ اس سے مراد عصرِ حاضر کی مختلف قسم کی تنظیموں اور جماعتوں کے سربراہان نہیں کہ ان کی بیعت کی جائے، بلکہ یہ تو تفرقہ بازی ہے، جس سے قرآن حکیم نے منع کیا ہے۔ (صحیحہ: ۹۸۴)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12145
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15696 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15784»