الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الفَضْلُ الْاَوَّلُ فِي كَيْفِيَّةِ بَيْعَةِ النَّبِي ﷺ باب: فصل اول: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت لینے کی کیفیت کا بیان
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ جَاءَ عَبْدٌ فَبَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْهِجْرَةِ وَلَمْ يَشْعُرْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ عَبْدٌ فَجَاءَ سَيِّدُهُ يُرِيدُهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”بِعْنِيهِ“ فَاشْتَرَاهُ بِعَبْدَيْنِ أَسْوَدَيْنِ ثُمَّ لَمْ يُبَايِعْ أَحَدًا بَعْدُ حَتَّى يَسْأَلَهُ ”أَعَبْدٌ هُوَ“سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک غلام نے آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہجرت کرنے پر بعیت کر لی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتہ نہ چل سکا کہ وہ غلام ہے، اتنے میں اس کا مالک اسے لینے کے لیے آگیا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا۔ تم یہ غلام مجھے بیچ دو۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو سیاہ فام غلاموں کے عوض اس کو خریدلیا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب تک یہ نہ پوچھ لیتے کہ کیا یہ شخص غلام ہے؟ اس وقت تک کسی سے بیعت نہیں لیتے تھے۔