الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الفَضْلُ الْاَوَّلُ فِي كَيْفِيَّةِ بَيْعَةِ النَّبِي ﷺ باب: فصل اول: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت لینے کی کیفیت کا بیان
حدیث نمبر: 12142
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ شَأْنِ ثَقِيفٍ إِذْ بَايَعَتْ فَقَالَ اشْتَرَطَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا صَدَقَةَ عَلَيْهَا وَلَا جِهَادَ وَأَخْبَرَنِي جَابِرٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”سَيَصَّدَّقُونَ وَيُجَاهِدُونَ إِذَا أَسْلَمُوا“ يَعْنِي ثَقِيفًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو زبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بنو ثقیف کے بارے میں پوچھا، جب انھوں نے بیعت کی تھی؟ انہوں نے کہا: بنو ثقیف نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ یہ شرط لگائی تھی کہ نہ ان پر صدقہ ہو گا اور نہ جہاد، پھر ابوزبیر نے کہا کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے ان کو یہ بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا تھا کہ جب وہ صحیح طور پر مسلمان ہوجائیں گے تو عنقریب صدقہ بھی دیں گے اور جہاد بھی کریں گے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حکمت و دانائی کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ اگر کوئی قبیلہ یا فرد مشرف باسلام تو ہونا چاہتا ہے، لیکن اسلام کے ایک دو اجزا یا شقوں کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا، تو حکمت یہ ہے کہ دونوں گھروں کی مصلحت کا خیال رکھتے ہوئے اس امید پر اس کی شرطیں قبول کر لی جائیں کچھ عرصہ تک ایمان و ایقان میں پختہ ہو کر اسلام کے ہر جزو اور شقّ کو تسلیم کر لے گا، درج ذیل حدیث اور اس کی شرح پر غور کریں: سیدنا فضالہ لیثی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: عَلَّمَنِی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَکَانَ فِیْمَا عَلَّمَنِی أَنْ قَالَ لِی: ((حَافِظْ عَلٰی الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ۔)) فَقُلْتُ: إِنَّ ھٰذِہِ سَاعَاتٌ لِی فِیْھَا أَشْغَالٌ، فَمُرْنِی بِأَمْرٍ جَامِعٍ إِذَا أَنَا فَعَلْتُہٗ أَجْزَأَ عَنِّی، قَالَ: ((حَافِظْ عَلٰی الْعَصْرَیْنِ: صَلَاۃٍ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَصَلَاۃٍ قَبْلَ غُرُوْبِھَا)) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کچھ امور کی تعلیم دی، ان میں سے ایک امر یہ بھی تھا: پانچوں نمازوں کی محافظت کیا کر۔ میں نے کہا: ان گھڑیوں میں تو میں مصروف رہتا ہوں، آپ مجھے کوئی ایسا جامع و مانع حکم دیں کہ میں اس پر عمل کرتا رہوں اور وہ مجھے کفایت کرتا رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو نمازوں یعنی طلوع آفتا ب سے پہلے والی اور غروبِ آفتاب سے پہلے والی نمازوں کی محافظت کرتا رہ۔ (ابوداود: ۴۵۳، صحیحہ: ۱۸۱۳)
کسی آدمی کے دماغ میں یہ نکتہ سرایت نہ کر جائے کہ دو نمازوں پر اکتفا کرنا بھی درست ہے، علمائے حق کے نزدیک اس حدیث کے دو معانی مراد لینا ممکن ہیں: (۱) اس آدمی کو اس کی مصروفیت کی وجہ سے جماعت سے پیچھے رہنے کی رخصت دی گئی تھی، نہ کہ ترکِ نماز کی، امام البانی رحمتہ اللہ علیہ کی یہی رائے ہے اور (۲)وہ کوئی نو مسلم آدمی تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حکمت نے اس بات کا تقاضا کیا کہ فی الحال اس کو رخصت دی جائے، جب ایمان میں رسوخ پیدا ہو جائے گا تو اس کے لیے پانچ نمازوں کی ادائیگی ممکن ہو جائے گی اور یہی بات اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے کہ جب کوئی مبلّغ کسی بے نمازی کو پانچ نمازوں کی ادائیگی کی تلقین کرتا ہے، لیکن وہ اس بات پر مصرّ ہے کہ وہ صرف دو تین نمازیں پڑھے گا تو اس حدیث کی روشنی میں اسے کہا جا سکتا ہے کہ چلو تم دو تین ہی پڑھتے رہو۔ (واللہ اعلم بالصواب)
درج بالا حدیث کو دیکھا جائے تو دوسرا معنی راجح اور درست معلوم ہوتا ہے: یہ حدیث اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے کسی بڑی مصلحت کی خاطر کسی کو عارضی طور پر اسلام کے بعض احکام سے مستثنی قرار دیا جا سکتا ہے۔ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ثقیف قبیلہ والے لوگوں کی شرطیں تسلیم نہ کرتے تو ممکن تھا کہ وہ کفر پر اڑے رہتے، جو کہ بہت بڑی مفسدت تھی، اس مفسدت سے تو وہ ناقص اسلام ہی بہتر ہے، جس میں جہاد اور صدقہ نہ ہوں، جبکہ رخصت دینے والے کو یہ امید بھی ہو کہ عنقریب یہ لوگ تمام اسلامی احکام کو تسلیم کر لیں گے۔ یہی معاملہ اس باب کی حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ پانچوں نمازیں نہ پڑھنے سے بہرحال دو ادا کر لینا بہتر ہے، ان دو کے ذریعے آہستہ آہستہ پانچ کا قائل کرنا ممکن ہو جائے گا۔ قربان جائیے حکیم و دانا پیغمبر کی حکمت و دانائی پر۔
کسی آدمی کے دماغ میں یہ نکتہ سرایت نہ کر جائے کہ دو نمازوں پر اکتفا کرنا بھی درست ہے، علمائے حق کے نزدیک اس حدیث کے دو معانی مراد لینا ممکن ہیں: (۱) اس آدمی کو اس کی مصروفیت کی وجہ سے جماعت سے پیچھے رہنے کی رخصت دی گئی تھی، نہ کہ ترکِ نماز کی، امام البانی رحمتہ اللہ علیہ کی یہی رائے ہے اور (۲)وہ کوئی نو مسلم آدمی تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حکمت نے اس بات کا تقاضا کیا کہ فی الحال اس کو رخصت دی جائے، جب ایمان میں رسوخ پیدا ہو جائے گا تو اس کے لیے پانچ نمازوں کی ادائیگی ممکن ہو جائے گی اور یہی بات اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے کہ جب کوئی مبلّغ کسی بے نمازی کو پانچ نمازوں کی ادائیگی کی تلقین کرتا ہے، لیکن وہ اس بات پر مصرّ ہے کہ وہ صرف دو تین نمازیں پڑھے گا تو اس حدیث کی روشنی میں اسے کہا جا سکتا ہے کہ چلو تم دو تین ہی پڑھتے رہو۔ (واللہ اعلم بالصواب)
درج بالا حدیث کو دیکھا جائے تو دوسرا معنی راجح اور درست معلوم ہوتا ہے: یہ حدیث اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے کسی بڑی مصلحت کی خاطر کسی کو عارضی طور پر اسلام کے بعض احکام سے مستثنی قرار دیا جا سکتا ہے۔ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ثقیف قبیلہ والے لوگوں کی شرطیں تسلیم نہ کرتے تو ممکن تھا کہ وہ کفر پر اڑے رہتے، جو کہ بہت بڑی مفسدت تھی، اس مفسدت سے تو وہ ناقص اسلام ہی بہتر ہے، جس میں جہاد اور صدقہ نہ ہوں، جبکہ رخصت دینے والے کو یہ امید بھی ہو کہ عنقریب یہ لوگ تمام اسلامی احکام کو تسلیم کر لیں گے۔ یہی معاملہ اس باب کی حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ پانچوں نمازیں نہ پڑھنے سے بہرحال دو ادا کر لینا بہتر ہے، ان دو کے ذریعے آہستہ آہستہ پانچ کا قائل کرنا ممکن ہو جائے گا۔ قربان جائیے حکیم و دانا پیغمبر کی حکمت و دانائی پر۔