الفتح الربانی
كتاب الصلاة— نماز کی کتاب
فَصْلٌ فِيمَا جَاءَ فِي الصَّلَاةِ بَعْدَ الصُّبْحِ باب: طلوع فجر کے بعد نماز پڑھنے کا بیان
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حُيَيِّ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: رَأَيْتُ يَعْلَى يُصَلِّي قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَوْ قِيلَ لَهُ: أَنْتَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تُصَلِّي قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ؟ قَالَ يَعْلَى: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَي شَيْطَانٍ)) قَالَ لَهُ يَعْلَى: فَأَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَأَنْتَ فِي أَمْرِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَطْلُعَ وَأَنْتَ لَاهٍحُیَی بن یعلی بن امیہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا یعلی ؓ کو طلوع آفتاب سے پہلے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، ایک آدمی نے ان سے کہا: تم تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے ہو اور طلوع آفتاب سے پہلے نماز پڑھ رہے ہو؟ سیدنا یعلیؓ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بیشک سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان سے طلوع ہوتا ہے۔ پھر سیدنا یعلی ؓ نے کہا: اب اگر طلوع آفتاب کے وقت تم اللہ کے حکم میں لگے ہوئے ہو تو یہ اس سے بہتر ہو گا کہ سورج طلوع ہو رہا ہو اور تم غافل ہو۔