الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الفَضْلُ الْاَوَّلُ فِي كَيْفِيَّةِ بَيْعَةِ النَّبِي ﷺ باب: فصل اول: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت لینے کی کیفیت کا بیان
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَحْيَى عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ سَمِعَهُ مِنْ جَدِّهِ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً عَنْ جَدِّهِ عُبَادَةَ قَالَ سُفْيَانُ وَعُبَادَةُ نَقِيبٌ وَهُوَ مِنَ السَّبْعَةِ بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ وَالْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ وَلَا نُنَازِعُ الْأَمْرَ أَهْلَهُ (وَفِي رِوَايَةٍ وَإِنْ رَأَيْتَ إِنَّ لَكَ) نَقُولُ بِالْحَقِّ حَيْثُمَا كُنَّا لَا نَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ قَالَ سُفْيَانُ زَادَ بَعْضُ النَّاسِ مَا لَمْ تَرَوْا كُفْرًا بَوَاحًاسیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ، جو کہ سات نقباء میں سے ایک تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس بات پر بیعت کی کہ ہم تنگی اور آسانی میں اور خوشی اور ناخوشی میں حکمران کی بات سنیں گے اور اس کی اطاعت کریں گے، حکومت کے بارے میں اہل حکومت سے جھگڑ انہیں کر یں گے اور ہم جہاں بھی ہوں گے، حق بات کہیں گے اور اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی پروا نہیں کریں گے۔ سفیان راوی نے کہا: بعض حضرات نے اس حدیث میں یہ الفاظ زائد روایت کیے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (تم اس وقت تک حکمران کی اطاعت کرنا) جب تک واضح کفر نہ دیکھ لو۔