الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الفَضْلُ الْاَوَّلُ فِي كَيْفِيَّةِ بَيْعَةِ النَّبِي ﷺ باب: فصل اول: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت لینے کی کیفیت کا بیان
حدیث نمبر: 12133
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ ثُمَّ يَقُولُ ”فِيمَا اسْتَطَعْتَ“ وَقَالَ مَرَّةً فَيُلَقِّنُ أَحَدَنَا فِيمَا اسْتَطَعْتَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس چیز کی بیعت لیا کرتے تھے کہ حاکم کا حکم سن کر اس کی اطاعت کی جائے،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود ہی فرما دیتے: جتنی تم میں طاقت اور استطاعت ہو۔ ایک راوی نے کہا: پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں لقمہ دیتے اور یادہانی کرا دیتے کہ جتنی تم میں طاقت ہو گی (اس کے مطابق تم حاکم کی اطاعت کرو گے)۔
وضاحت:
فوائد: … یعنی حاکم کے حکم کی اطاعت اسی وقت تک ہے جب تک آدمی اسے پورا سکتا اور بجا لاسکتا ہو، حاکم کا جو حکم خارج از استطاعت ہو، اس کی اطاعت نہ کی جائے۔
یہ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحم دلی ہوتی تھی کہ بیعت میں طاقت اور استطاعت کی شرط لگوا دیتے تھے، تاکہ اگر کسی مجبوری اور شرعی عذر کی وجہ سے کسی شق کو توڑنا پڑ جائے تو بیعت کا معاہدہ برقرار رہے۔
یہ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحم دلی ہوتی تھی کہ بیعت میں طاقت اور استطاعت کی شرط لگوا دیتے تھے، تاکہ اگر کسی مجبوری اور شرعی عذر کی وجہ سے کسی شق کو توڑنا پڑ جائے تو بیعت کا معاہدہ برقرار رہے۔