حدیث نمبر: 12132
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَنْ أَكْرَمَ سُلْطَانَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي الدُّنْيَا أَكْرَمَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ أَهَانَ سُلْطَانَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي الدُّنْيَا أَهَانَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی دنیا میں اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے بادشاہ کا اکرام کرے، اللہ قیامت کے دن اس کا اکرام کرے گا اور جس نے دنیا میں اللہ کے بنائے ہوئے بادشاہ کی توہین و تذلیل کی، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے ذلیل ورسوا کرے گا۔

وضاحت:
فوائد: … بادشاہ کی عزت اور بے عزتی عام آدمی کی عزت اور بے عزتی کی بہ نسبت زیادہ اہمیت رکھتی ہے، ہر صاحب ِ عزت اس چیز کو محسوس کرتا ہے، اس لیے حکمرانوں کے ساتھ وہ رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیے، جو عوام الناس کے ساتھ اختیار کیا جاتا ہے، اسی قسم کی ایک درج ذیل مثال پر غور کریں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَقِیْلُوْا ذَوِيْ الْھَیْئَاتِ عَثَرَاتِھِمْ اِلَّا الْحُدُوْدَ۔)) … صاحب ِ حیثیت لوگوں کی غلطیاں معاف کر دیا کرو، مگریہ کہ وہ حدود ہوں۔ (ابو دواد: ۴۳۷۵، صحیحہ: ۶۳۸)
دنیا کا ہر وہ معاشرہ جس کو تہذیب و شائستگی سے ادنی سا تعلق بھی رہا ہو، اپنے اندر موجود باوقار، شریف النفس اور رذائل سے دور رہنے والے افراد کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ان کی چھوٹی چھوٹی کوتاہیوں اور فرو گذاشتوں کو نظر انداز کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ کیونکہ شریعت کا مقصد تربیت کرنا ہے، تربیت کے لیے ضروری نہیں کہ زجر و توبیخ سے ہی کام لیا جائے یا تعزیر ہی لگائی جائے، کیونکہ بعض صاحب ِ حیثیت لوگوں کو شرم دلانے کے لیے اور آئندہ ایسے جرائم سے محفوظ کرنے کے لیے یہی کافی ہوتا ہے کہ لوگوں پر ان کا پول کھل جائے، جبکہ عام لوگوں کو سمجھانے کیلیے یہ کلیہ کافی نہیں ہے۔
اس حدیث ِ مبارکہ میں اسی اخلاقی خوبی کو سراہنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے، ہاں اگر جرم کی نوعیت حدود اللہ کی پامالی تک جا پہنچتی ہے تو پھر قانون مساوات سب کے لیے ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12132
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن، قاله الالباني، اخرجه الترمذي: 2224 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20433 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20705»