الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الْفَضْلُ الرَّابِعُ فِي لُزُومِ جَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ وَإِكْرَامِ السلطان باب: فصل چہارم: مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنے اور بادشاہ کا اکرام کرنے کا بیان
وَعَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ قَالَ انْطَلَقْتُ إِلَى حُذَيْفَةَ بِالْمَدَائِنِ لَيَالِيَ سَارَ النَّاسُ إِلَى عُثْمَانَ فَقَالَ يَا رِبْعِيُّ مَا فَعَلَ قَوْمُكَ قَالَ قُلْتُ عَنْ أَيِّ بَالِهِمْ تَسْأَلُ قَالَ مَنْ خَرَجَ مِنْهُمْ إِلَى هَذَا الرَّجُلِ فَسَمَّيْتُ رِجَالًا فِيمَنْ خَرَجَ إِلَيْهِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ وَاسْتَذَلَّ الْإِمَارَةَ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا وَجْهَ لَهُ عِنْدَهُ“ربعی بن حراش کہتے ہیں: جن ایام میں لوگ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی مخالفت میں بغاوت کر کے ان کی طرف روانہ ہوئے تو میں انہی راتوں میں سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں مدائن گیا، انہو ں نے مجھ سے کہا: ربعی! تمہاری قوم نے کیا کیا ہے؟ میں نے کہا: آپ ان کے کس فعل کے بارے میں پوچھ رہے ہیں؟ انہو ں نے کہا: کون لوگ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف گئے ہیں؟ سو میں نے جانے والوں میں سے کچھ افراد کے نام ذکر کر دئیے، انہو ں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے مسلمانوں کی جماعت سے علیحدگی اختیار کی اور امارت و حکومت کو ذلیل کرنے کی کوشش کی، وہ اللہ تعالیٰ کو اس حال میں جا کر ملے گا کہ اللہ کے ہاں اس کی کوئی توقیر نہیں ہو گی۔