حدیث نمبر: 12121
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا يُونُسُ وَحُمَيْدٌ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ زِيَادًا اسْتَعْمَلَ الْحَكَمَ الْغِفَارِيَّ عَلَى جَيْشٍ فَأَتَاهُ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَلَقِيَهُ بَيْنَ النَّاسِ فَقَالَ أَتَدْرِي لِمَ جِئْتُكَ فَقَالَ لَهُ لِمَ قَالَ هَلْ تَذْكُرُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِلرَّجُلِ الَّذِي قَالَ لَهُ أَمِيرُهُ اقْعَ فِي النَّارِ فَأَدْرَكَ فَاحْتَبَسَ فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”لَوْ وَقَعَ فِيهَا لَدَخَلَا النَّارَ جَمِيعًا لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى“ قَالَ نَعَمْ قَالَ إِنَّمَا أَرَدْتُ أَنْ أُذَكِّرَكَ هَذَا الْحَدِيثَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

حسن سے روایت ہے کہ زیاد نے حکم غفاری کو ایک لشکر پر امیر بنایا، سیدناعمران بن حصین رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور لوگوں کے ما بین اس سے ملے اور کہا: کیا تم جانتے ہو کہ میں تمہارے ہاں کس لیے آیا ہوں؟ ا س نے کہا: جی بتائیں، کس لیے آئے ہیں؟ انہو ں نے کہا، کیا تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وہ بات یاد ہے جوآپ نے اس آدمی سے ارشاد فرمائی تھی، جسے اس کے امیر نے کہا تھا، آگ میں گھس جا، مگر اس آدمی نے یہ بات ماننے سے انکار کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: اگر وہ آگ میں داخل ہو جاتا تو وہ دونوں(حکم دینے والا اور اس کو ماننے والا) جہنم میں جاتے، اللہ تعالیٰ کی معصیت ہو رہی ہو تو کسی کی اطاعت نہیں کی جاسکتی۔ حکم غفاری نے کہا: جی ہاں، یاد ہے۔ پھر سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تمہیں یہ حدیث یاد دلانا چاہتا تھا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12121
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، اخرجه الطبراني في الكبير : 3159، والبزار: 3581، والحاكم: 3/ 443 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20659 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20935»