حدیث نمبر: 1211
عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيِّ فَدَخَلَ شَابَّانِ مِنْ وَلَدِ عُمَرَ فَصَلَّيَا رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمَا فَدَعَاهُمَا فَقَالَ: مَا هَٰذِهِ الصَّلَاةُ الَّتِي صَلَّيْتُمَاهَا وَقَدْ كَانَ أَبُوكُمَا يَنْهَى عَنْهَا، قَالَا: حَدَّثَتْنَا عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّاهُمَا عِنْدَهَا، فَسَكَتَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِمَا شَيْئًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

عطاء بن سائب کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن مغفل مزنی ؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، سیدنا عمر ؓکی اولاد میں سے دونوجوان داخل ہوئے اور عصر کے بعد دو رکعتیں ادا کیں، انھوں نے اُن کی طرف پیغام بھیجا اور ان کو بلا کر کہا: یہ کون سی نماز ہے، جو تم نے پڑھی ہے، تمہارا باپ تو اس سے منع کرتا تھا؟ انھوں نے کہا: سیدہ عائشہ ؓ نے ہمیں بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے پاس دو رکعتیں ادا کی تھیں، یہ سن کر سیدنا ابن مغفل ؓخاموش ہو گئے اور ان کو کوئی جواب نہ دیا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1211
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف علي بن عاصم ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22337 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22693»