حدیث نمبر: 12109
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّهُ سَتَكُونُ أُمَرَاءُ تَعْرِفُونَ وَتُنْكِرُونَ فَمَنْ أَنْكَرَ فَقَدْ بَرِئَ وَمَنْ كَرِهَ فَقَدْ سَلِمَ وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ“ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا نُقَاتِلُهُمْ قَالَ ”لَا مَا صَلَّوْا لَكُمُ الْخَمْسَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب ایسے حکمران ہوں گے کہ تم ان کے بعض امور کو پسند کرو گے اور بعض کو ناپسند، جس نے ان کے غلط کام پر انکار کیا، وہ بری ہو گیا، (یعنی اس نے اپنی ذمہ داری ادا کر دی) ،جس نے ان کے غلط کام کو ناپسند کیا، وہ بھی (اللہ کی ناراضگی سے) بچ گیا، لیکن جو آدمی ان کے غلط کاموں پر راضی ہو گیا اور ان کی پیروی کرتا رہا، ( وہ اللہ کی ناراضگی سے نہیں بچ سکے گا۔) صحابہ کرام نے کہا:اللہ کے رسول! کیا ہم ایسے حکمرانوں سے لڑائی نہ کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، وہ جب تک تمہارے لیے (یعنی تمہارے سامنے) پانچ نماز ادا کرتے رہیں گے، اس وقت تک نہیں لڑنا۔

وضاحت:
فوائد: … جس نے ایسے حکمرانوں کی اداؤں کو تسلیم کرنے سے انکار کیا، وہ منافقت، حق پوشی اور چاپلوسی کرنے سے بچ جائے گا، جو حسبِ استطاعت خاموش ہو گیا، موافقت کی نہ مخالفت، تووہ کم از کم ان کے وبال میں شریک نہیں ہوگا، لیکن جو ان کے ساتھ راضی ہو گیا تو وہ تو ان کی سرکشی، بغاوت اور نافرمانی میں برابر کا شریک ہو گا۔ شاید یہ بات درست ہو کہ موجودہ دور کے تمام حکمران اور ان کے درباری اس قسم کی تمام احادیث کے مصداق ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12109
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 1854 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26528 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27063»