حدیث نمبر: 12106
عَنْ أُمِّ الْحُصَيْنِ الْأَحْمَسِيَّةِ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ بِعَرَفَاتٍ وَهُوَ يَقُولُ ”وَلَوِ اسْتُعْمِلَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ يَقُودُكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا“ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَسَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ إِنِّي لَأَرَى لَهُ السَّمْعَ وَالطَّاعَةَ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ وَالْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ ام حصین احمسیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عرفات میں خطبہ ارشاد فرما تے ہوئے سنا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے اوپر کسی غلام کو حکمران بنا دیاجائے اور وہ کتاب اللہ کے مطابق تمہاری قیادت و رہنمائی کرے تو تم اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو۔ عبداللہ بن امام احمد کہتے ہیں: میرے والد نے کہا: میں سمجھتا ہوں کہ مشکل ہو یا آسانی، خوشی ہو یا مجبوری، ہر حال میں حکمران کی بات سننی اور اس کی اطاعت کرنی ہے۔

وضاحت:
فوائد: … اگر حکمران قرآن و حدیث کی روشنی میں رعایا کی حکمرانی کر رہا ہو تو پھر تو کوئی چارۂ کار نہیں ہو گا، ما سوائے اس کے کہ اس کی بات مانی جائے، اگرچہ وہ ناقص الخلقت اور ادھورا ہو، مال و دولت سے محروم ہو اور حسن و جمال سے خالی ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12106
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 1838، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27269 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27812»