حدیث نمبر: 12103
عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”يَا أَبَا ذَرٍّ كَيْفَ أَنْتَ عِنْدَ وُلَاةٍ“ (وَفِي رِوَايَةٍ ”كَيْفَ أَنْتَ وَأَئِمَّةٌ مِنْ بَعْدِي“) ”يَسْتَأْثِرُونَ عَلَيْكَ بِهَذَا الْفَيْءِ“ قَالَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ أَضَعُ سَيْفِي عَلَى عَاتِقِي فَأَضْرِبُ بِهِ حَتَّى أَلْحَقَكَ قَالَ ”أَفَلَا أَدُلُّكَ عَلَى خَيْرٍ لَكَ مِنْ ذَلِكَ تَصْبِرُ حَتَّى تَلْقَانِي“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابوذر! جب ایسے حکمران آجائیں جو مال کے بارے میں تمہارے اوپر دوسروں کو ترجیح دیں گے تو تم کیا کرو گے؟ انھوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! میں اپنی تلوار اپنے کندھے پر رکھ لوں گا۔ اور پھر اس کے ساتھ لڑنا شروع کر دوں گا، یہاں تک کہ آپ سے آ ملوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز نہ بتلادوں؟ وہ یہ ہے کہ تم ان حالات پر صبر کرنا، یہاں تک کہ مجھے آملو۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12103
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة خالد بن وھبان، اخرجه ابوداود: 4759 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21558 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21891»