حدیث نمبر: 12102
عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتْلُو عَلَيَّ هَذِهِ الْآيَةَ {وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا} [الطلاق: 2] حَتَّى فَرَغَ مِنَ الْآيَةِ ثُمَّ قَالَ ”يَا أَبَا ذَرٍّ لَوْ أَنَّ النَّاسَ كُلَّهُمْ أَخَذُوا بِهَا لَكَفَتْهُمْ“ قَالَ فَجَعَلَ يَتْلُو بِهَا وَيُرَدِّدُهَا عَلَيَّ حَتَّى نَعَسْتُ ثُمَّ قَالَ ”يَا أَبَا ذَرٍّ كَيْفَ تَصْنَعُ إِنْ أُخْرِجْتَ مِنَ الْمَدِينَةِ“ قَالَ قُلْتُ إِلَى السَّعَةِ وَالدَّعَةِ أَنْطَلِقُ حَتَّى أَكُونَ حَمَامَةً مِنْ حَمَامِ مَكَّةَ قَالَ ”كَيْفَ تَصْنَعُ إِنْ أُخْرِجْتَ مِنْ مَكَّةَ“ قَالَ قُلْتُ إِلَى السَّعَةِ وَالدَّعَةِ إِلَى الشَّامِ وَالْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ قَالَ ”وَكَيْفَ تَصْنَعُ إِنْ أُخْرِجْتَ مِنَ الشَّامِ“ قَالَ قُلْتُ إِذَنْ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ أَضَعُ سَيْفِي عَلَى عَاتِقِي قَالَ ”أَوَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ“ قَالَ قُلْتُ أَوَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ قَالَ ”تَسْمَعُ وَتُطِيعُ وَإِنْ كَانَ عَبْدًا حَبَشِيًّا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی: {وَمَنْ یَتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَہُ مَخْرَجًا} … جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے نکلنے کی جگہ بنا دیتا ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’اے ابو ذر! اگر سب لوگ اس آیت پر عمل کرنے لگ جائیں تو یہ آیت ان سب کے لیے کافی ہو گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس آیت کو پڑھتے اور میرے سامنے بار بار دہراتے رہے، یہاں تک کہ میں اونگھنے لگا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! اگر تمہیں مدینہ سے نکال دیا گیا، تو تم کیا کرو گے؟ انھوں نے کہا: میں کسی ایسے علاقے میں چلا جاؤں گا، جہاں وسعت اور فراخی ہوگی، میں مکہ جا کر اس کے کبوتروں میں سے ایک کبوتر بن جاؤں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہیں مکہ سے نکال دیا گیا تو پھر کیا کرو گے؟ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں وسعت وفراخی والی جگہ شام کی طرف چلا جاؤں گا کہ وہ مقدس سرزمین ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہیں شام سے بھی نکال دیا گیا تو تب کیاکروگے؟ انھوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! تب میں اپنی تلوار اپنے کندھے پر رکھ لوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تجھے اس سے بہتر چیز نہ بتلا دوں؟ انھوں نے کہا: کیا کوئی کام اس سے بھی بہتر ہے؟ آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم حاکم کی بات سننا اور اس کو مان لینا، خواہ وہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو۔

وضاحت:
فوائد: … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَمَنْ یَتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَہُ مَخْرَجًا۔ وَّیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ فَہُوَ حَسْبُہ اِنَّ اللّٰہَ بَالِغُ اَمْرِہٖ قَدْ جَعَلَ اللّٰہُ لِکُلِّ شَیْء ٍ قَدْرًا } … اور جو اللہ سے ڈرے گا وہ اس کے لیے نکلنے کا کوئی راستہ بنا دے گا۔اور اسے رزق دے گا جہاں سے وہ گمان نہیں کرتا اور جو کوئی اللہ پر بھروسا کرے تو وہ اسے کافی ہے، بے شک اللہ اپنے کام کو پورا کرنے والا ہے، یقینا اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک اندازہ مقرر کیا ہے۔ (سورۂ طلاق: ۱،۲) یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن یہ آیت اپنے مضمون میں پراثر اور واضح نظر آ رہی ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12102
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لانقطاعه، فان ابا السليل لم يدرك ابا ذر، اخرجه ابن ماجه: 4220 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21551 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21884»