حدیث نمبر: 12101
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ فَارِسٍ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”إِنَّ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَدْ قَتَلَ رَبَّكَ“ (يَعْنِي كِسْرَى) قَالَ وَقِيلَ لَهُ (يَعْنِي لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) إِنَّهُ قَدِ اسْتَخْلَفَ ابْنَتَهُ قَالَ فَقَالَ ”لَا يُفْلِحُ قَوْمٌ تَمْلِكُهُمُ امْرَأَةٌ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اہلِ فارس میں سے ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے ربّ تبارک وتعالیٰ نے تمہارے ربّ یعنی کسریٰ کو قتل کر دیا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلایا گیا کہ اس نے اپنی بیٹی کو اپنا نائب بنا رکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ قوم فلاح نہیں پائے گی، جس پر عورت حکمران ہو۔

وضاحت:
فوائد: … شریعت ِ اسلامیہ میں عورت کی اہمیت اور حقوق مسلّمہ ہیں، لیکن حکمرانی اور حاکمیت کے معاملات مردوں کے ساتھ خاص ہیں، عورتوں کا ان امور میں کوئی حق نہیں ہے، وہ معاشرہ اپنی مثال آپ ہے، جس میں خواتین و حضرات اپنی اپنی ذمہ داریاں سمجھتے ہوں اور ان کو نبھاتے ہوں، آپ غور کریں کہ عورت کے لیے مسجد کی بہ نسبت گھر کے مخفی مقام میں فرض نماز پڑھنا افضل اور بہتر قرار دیا گیا ہے، اگرچہ مسجد میں آنے کی اجازت دی گئی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12101
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، اخرج القطعة الثانية البخاري: 4425، 7099 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20438 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20710»