حدیث نمبر: 1210
عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ قَالَ: إِنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْ آلَ الزُّبَيْرِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عِنْدَهَا رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ فَكَانُوا يُصَلُّونَهَا، قَالَ قَبِيصَةُ: فَقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: يَغْفِرُ اللَّهُ لِعَائِشَةَ نَحْنُ أَعْلَمُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَائِشَةَ، إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ لِأَنَّ أُنَاسًا مِنَ الْأَعْرَابِ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِهَجِيرٍ فَقَعَدُوا يَسْأَلُونَهُ وَيُفْتِيهِمْ حَتَّى صَلَّى الظُّهْرَ وَلَمْ يُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَعَدَ يُفْتِيهِمْ حَتَّى صَلَّى الْعَصْرَ فَانْصَرَفَ إِلَى بَيْتِهِ فَذَكَرَ أَنَّهُ لَمْ يُصَلِّ بَعْدَ الظُّهْرِ شَيْئًا فَصَلَّاهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ، يَغْفِرُ اللَّهُ لِعَائِشَةَ نَحْنُ أَعْلَمُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَائِشَةَ، نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

قبیصہ بن ذؤیب کہتے ہیں: سیدہ عائشہ ؓ نے آلِ زبیر کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُن کے پاس عصر کے بعد دو رکعتیں ادا کی تھیں، پس آل زبیر کے لوگ یہ دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے، لیکن سیدنا زید بن ثابتؓ نے کہا: اللہ تعالیٰ سیدہ عائشہؓ کو معاف کرے، ہم سیدہ کی بہ نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زیادہ جاننے والے ہیں، ان دو رکعتوں کی وجہ یہ تھی کہ کچھ بدّو لوگ دوپہر کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر بیٹھ گئے اور سوال کرنے لگے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے جوابات دینے لگے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ ظہر ادا کی اور پھر بعد والی دو سنتیں ادا کیے بغیر ان کے ساتھ بیٹھ کر ان کے سوالات کے جوابات دینے لگ گئے، یہاں تک کہ نماز عصر ادا کر لی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب گھر تشریف لے گئے تو آپ کو یاد آیا کہ ظہر کے بعد والی نماز نہیں پڑھی تھی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ دو رکعتیں عصر کے بعد ادا کیں، اللہ تعالیٰ سیدہ عائشہؓ کو معاف کرے، ہم سیدہ کی بہ نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زیادہ جاننے والے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1210
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 4900، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21612 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21948»