حدیث نمبر: 12096
عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَامِرِ بْنِ شَهْرٍ قَالَ سَمِعْتُ كَلِمَتَيْنِ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَلِمَةً وَمِنَ النَّجَاشِيِّ أُخْرَى سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”انْظُرُوا قُرَيْشًا فَخُذُوا مِنْ قَوْلِهِمْ وَذَرُوا فِعْلَهُمْ“ وَكُنْتُ عِنْدَ النَّجَاشِيِّ جَالِسًا فَجَاءَ ابْنُهُ مِنَ الْكُتَّابِ فَقَرَأَ آيَةً مِنَ الْإِنْجِيلِ فَعَرَفْتُهَا أَوْ فَهِمْتُهَا فَضَحِكْتُ فَقَالَ مِمَّ تَضْحَكُ أَمِنْ كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى فَوَاللَّهِ إِنَّ مِمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى عَلَى عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ أَنَّ اللَّعْنَةَ تَكُونُ فِي الْأَرْضِ إِذَا كَانَ أُمَرَاؤُهَا الصِّبْيَانَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عامر بن شہر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے دو خاص باتیں سنی ہیں، ایک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دوسری نجاشی سے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ تم قریش پر نظر رکھنا، تم نے ان کی باتیں قبول کر لینی ہیں اور ان کے کردار کو چھوڑ دینا ہے۔ اور میں نجاشی کے ہاں بیٹھا ہوا تھا کہ اس کا بیٹا ایک کتاب لے کرآیا، اس نے انجیل کی ایک آیت پڑھی، میں نے اسے سمجھ لیا تو میں ہنس پڑا، نجاشی نے کہا: تم کس بات پر ہنسے ہو؟ کیا تم اللہ تعالیٰ کی کتاب سن کر ہنسے ہو؟ اللہ کی قسم! عیسیٰ بن مریم پر جو باتیں نازل کی گئی تھیں، ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ جب دنیا میں نوجوان حکمران ہوں گے تو زمین پر لعنت اترے گی۔

وضاحت:
فوائد: … اگر کوئی حکمران بن جائے تو جہاں تک ہو سکے، اس کے ساتھ گزارہ کرنے کی کوشش کی جائے اور اس پر کیچڑ نہ اچھالا جائے، وگرنہ بغاوت کے نتائج سنگین ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12096
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، اخرجه ابن حبان: 4585، وابن ابي شيبة: 15/ 231، وابويعلي: 6864 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15536 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15621»