الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الْفَضْلُ الثَّالِثُ فِي إِمَارَةِ الصِّيِّبَانِ باب: فصل سوم: لڑکوں کی حکمرانی کا بیان
حدیث نمبر: 12095
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ رَأْسِ السَّبْعِينَ وَإِمَارَةِ الصِّبْيَانِ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ستر سال کے بعد والے دور سے اور لڑکوں کی حکومت سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کی ہلاکت قریشی لڑکوں کے ہاتھوں پر ہو گی۔ (بخاری)
ابن ابی شیبہ کی روایت ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بازار میں چلتے اور کہتے تھے: اے اللہ! نہ مجھے ساٹھ سن ہجری والا سال پائے اور نہ لڑکوں کی امارت۔
اس میں یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ پہلے لڑکے کی امارت کا ظہور ۶۰ ھ میں ہو گا اور ایسے ہی ہوا، یزید بن معاویہ خلیفہ بنا اور چونسٹھ سن ہجری تک باقی رہا، اس کی یہ عادت بھی تھی کہ وہ مختلف علاقوں سے بزرگوں کو معزول کر کے اپنے چھوٹی عمر کے قرابتداروں کو والی بناتا تھا۔ اس کی وفات کے بعد اس کا بیٹا معاویہ والی بنا جو کچھ مہینوں کے بعد مر گیا۔
ہلاکت یہ ہے کہ وہ امارت و بادشاہت طلب کرنے کے لیے اور اس کی وجہ سے لوگوں سے لڑیں گے، اس طرح لوگوں کے احوال میں فساد آ جائے گا اور پے در پے فتنوں کا ظہور ہو گااور ایسے ہی ہوا اور دل خراش واقعات پیش آئے۔
اس حدیث سے یہ بھی پتہ چلا کہ ظالم بادشاہوں کے خلاف بغاوت کرنے سے گریز کیا جائے، کیونکہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ان بادشاہوں کے نام بھی جانتے تھے اور یہ بھی بتلا یا تھا کہ امت کی ہلاکت ان کے ہاتھوں پر ہو گی، لیکن اس کے باوجود انھوں نے بغاوت کا حکم نہ دیا، کیونکہ بغاوت کی وجہ سے جہاں ہلاکتیں زیادہ ہونی تھیں، وہاں اطاعت کے امور سے دوری بھی ہونی تھی، اس لیے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے خفیف مفسدت اور آسان کام کو اختیار کیا۔
ابن ابی شیبہ کی روایت ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بازار میں چلتے اور کہتے تھے: اے اللہ! نہ مجھے ساٹھ سن ہجری والا سال پائے اور نہ لڑکوں کی امارت۔
اس میں یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ پہلے لڑکے کی امارت کا ظہور ۶۰ ھ میں ہو گا اور ایسے ہی ہوا، یزید بن معاویہ خلیفہ بنا اور چونسٹھ سن ہجری تک باقی رہا، اس کی یہ عادت بھی تھی کہ وہ مختلف علاقوں سے بزرگوں کو معزول کر کے اپنے چھوٹی عمر کے قرابتداروں کو والی بناتا تھا۔ اس کی وفات کے بعد اس کا بیٹا معاویہ والی بنا جو کچھ مہینوں کے بعد مر گیا۔
ہلاکت یہ ہے کہ وہ امارت و بادشاہت طلب کرنے کے لیے اور اس کی وجہ سے لوگوں سے لڑیں گے، اس طرح لوگوں کے احوال میں فساد آ جائے گا اور پے در پے فتنوں کا ظہور ہو گااور ایسے ہی ہوا اور دل خراش واقعات پیش آئے۔
اس حدیث سے یہ بھی پتہ چلا کہ ظالم بادشاہوں کے خلاف بغاوت کرنے سے گریز کیا جائے، کیونکہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ان بادشاہوں کے نام بھی جانتے تھے اور یہ بھی بتلا یا تھا کہ امت کی ہلاکت ان کے ہاتھوں پر ہو گی، لیکن اس کے باوجود انھوں نے بغاوت کا حکم نہ دیا، کیونکہ بغاوت کی وجہ سے جہاں ہلاکتیں زیادہ ہونی تھیں، وہاں اطاعت کے امور سے دوری بھی ہونی تھی، اس لیے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے خفیف مفسدت اور آسان کام کو اختیار کیا۔