الفتح الربانی
كتاب الصلاة— نماز کی کتاب
فَصْلٌ فِيمَا جَاءَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ باب: عصر کے بعد مزید دو رکعت نماز پڑھنے کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا: أَنَا ابْنُ جُرَيجٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْأَعْمَى يُخْبِرُ عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ السَّائِبُ مَوْلَى الْفَارِسِيِّينَ وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ: مَوْلَى لِفَارِسَ، وَقَالَ حَجَّاجٌ: مَوْلَى الْفَارِسِيِّينَ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ رَآهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ خَلِيفَةٌ رَكَعَ بَعْدَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ فَمَشَى إِلَيْهِ فَضَرَبَهُ بِالدِّرَّةِ وَهُوَ يُصَلِّي كَمَا هُوَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ زَيْدٌ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! فَوَاللَّهِ! لَا أَدَعُهُمَا أَبَدًا بَعْدَ أَنْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهِمَا، قَالَ: فَجَلَسَ إِلَيْهِ عُمَرُ وَقَالَ: يَا زَيْدُ بْنَ خَالِدٍ! لَوْلَا أَنْ أَخْشَى أَنْ يَتَّخِذَهَا النَّاسُ سُلَّمًا إِلَى الصَّلَاةِ حَتَّى اللَّيْلِ لَمْ أَضْرِبْ فِيهِمَاسیدنا زید بن خالد جہنیؓ سے مروی ہے کہ خلیفۂ رسول سیدنا عمر ؓ نے اس کو عصر کی بعد دو رکعتیں ادا کرتے ہوئے دیکھا، پس وہ اس کی طرف گئے اور اس کو نماز کی حالت میں دُرّہ لگا دیا، لیکن جب سیدنا زید ؓفارغ ہوئے تو انھوں نے کہا: اے امیر المؤمنین! چونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ دو رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھنے کے بعد تو میں یہ عمل ترک نہیں کروں گا۔ یہ سن کر سیدنا عمر ؓان کے پاس بیٹھے اور کہا: اے زید بن خالد! اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ لوگ اس نماز کو رات تک نماز پڑھتے رہنے کا ذریعہ بنا لیں گے تو میں ان کی وجہ سے نہ مارتا۔