الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الْفَضْلُ الثَّانِي فِي إِمَارَةِ السُّفَهَاءِ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْهُمْ باب: فصل دوم: بے وقوفوں، نا اہل لوگوں کی حکومت کا بیان، ہم ان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے ہیں
حدیث نمبر: 12088
عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ وَعَمْرِو بْنِ الْأَسْوَدِ عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ وَأَبِي أُمَامَةَ قَالَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنَّ الْأَمِيرَ إِذَا ابْتَغَى الرِّيبَةَ فِي النَّاسِ أَفْسَدَهُمْ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا مقداد بن اسود اور سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب حاکم لوگوں کے عیوب ڈھونڈنا شروع کر دیتا ہے تو وہ ان کو خراب کر دیتاہے۔
وضاحت:
فوائد: … جو حاکم اپنی رعایا کے لیے خیر و بھلائی کا طالب ہو گا، وہ کسی بڑی ضرورت اور مصلحت کے بغیر ان کے معائب و نقائص تلاش نہیں کرے گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو عیوب پر پردہ ڈالنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔