الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الْفَضْلُ الثَّانِي فِي إِمَارَةِ السُّفَهَاءِ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْهُمْ باب: فصل دوم: بے وقوفوں، نا اہل لوگوں کی حکومت کا بیان، ہم ان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے ہیں
وَعَنْ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ قَالَ إِنَّا لَقُعُودٌ عَلَى بَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَنْتَظِرُ أَنْ يَخْرُجَ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا فَقَالَ ”اسْمَعُوا“ فَقُلْنَا سَمِعْنَا ثُمَّ قَالَ ”اسْمَعُوا“ فَقُلْنَا سَمِعْنَا فَقَالَ ”إِنَّهُ سَيَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ فَلَا تُعِينُوهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَمَنْ صَدَّقَهُمْ بِكِذْبِهِمْ فَلَنْ يَرِدَ عَلَيَّ الْحَوْضَ“سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دروازے پر بیٹھے اس انتظار میں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ ظہر کے لیے باہر تشریف لائیں گے، آپ باہر تشریف لائے اور فرمایا: سنو! ہم نے عرض کیا: جی ہم سن رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ فرمایا: سنو! ہم نے کہا: ہم سن رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب تمہارے اوپر حکمران مسلط ہوں گے، تم ان کے ظلم پر ان کی مدد نہیں کرنا، جس نے ان کے جھوٹ پر ان کی تصدیق کی وہ حوضِ کوثر پرمیرے پاس نہیں آئے گا۔