حدیث نمبر: 12080
(وَعَنْهُ بِلَفْظٍ آخَرَ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّهُ سَيَلِي أَمْرَكُمْ مِنْ بَعْدِي رِجَالٌ يُطْفِئُونَ السُّنَّةَ وَيُحْدِثُونَ بِدْعَةً وَيُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ مَوَاقِيتِهَا“ قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ بِي إِذَا أَدْرَكْتُهُمْ قَالَ ”لَيْسَ يَا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ طَاعَةٌ لِمَنْ عَصَى اللَّهَ“ قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد تم پر ایسے لوگ حکمران ہوں گے، جو سنتوں کو مٹائیں گے،بدعات کو فروغ دیں گے اور نمازوں کو ان کے مقررہ اوقات سے مؤخر کریں گے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر میں ان لوگوں کو پالوں تو میرے لیے کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ام عبد کے بیٹے! اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے والے کی اطاعت نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار یہ بات ارشاد فرمائی۔

وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اس ارشاد پر عمل کرنے کے لیے بھی حکمتوں اور مصلحتوںکی تعلیم دی ہے، مثال کے طور پر اگر حکمران نمازوں کو ان کے اوقات سے ہی مؤخر کر دیں تو مخفی انداز میں نماز کو اس کے وقت پر ادا کر لیا جائے گا اور اگر ایسے حکمرانوں کی جماعت کے موقع پر بھی بندہ حاضر ہو تو وہ نفل کی نیت کر کے ان کے ساتھ شریک ہو گا اور یہ نہیں کہے گا کہ اس نے تو نماز ادا کر لی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12080
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، اخرجه ابن ماجه: 2865 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3789 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3789»