حدیث نمبر: 12079
عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّهُ سَيَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ وَتَرَوْنَ أَثَرَةً“ قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا يَصْنَعُ مَنْ أَدْرَكَ ذَاكَ مِنَّا قَالَ ”أَدُّوا الْحَقَّ الَّذِي عَلَيْكُمْ وَسَلُوا اللَّهَ الَّذِي لَكُمْ“ وَفِي رِوَايَةٍ ”إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً وَأُمُورًا تُنْكِرُونَهَا“ قَالَ قُلْنَا مَا تَأْمُرُنَا قَالَ ”أَدُّوا لَهُمْ حَقَّهُمْ وَسَلُوا اللَّهَ حَقَّكُمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب تمہارے اوپر کچھ حکمران مسلط ہوں گے، تم دیکھو گے کہ وہ مستحقین پر غیر مستحق لوگوں کو ترجیح دیں گے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! جو آدمی ایسے حالات پائے، وہ کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے ذمہ جو حقوق ہوں، تم ان کو ادا کرنا اور جو تمہارے حقوق ہوں، تم ان کا اللہ تعالیٰ سے سوال کرنا۔ ایک روایت میں ہے: تم میرے بعد دیکھو گے کہ نا اہل اور غیر مستحق لوگوں کو ترجیح دی جائے گی اور تم ایسے ایسے کام دیکھو گے جنہیں تم اچھا نہیں سمجھو گے۔ ہم نے کہا: ایسی صور ت حال میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے ذمے ان کے جو حقوق ہوں، تم انہیں ادا کرتے رہنا اور اپنے حقوق کا اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے رہنا۔

وضاحت:
فوائد: … رعایا کی انتہائی اہم ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ہر زمان و مکاں میں حکمت، مصلحت اور اپنے حالات سے متعلقہ ارشاداتِ نبوی کا خیال رکھے، جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں، اگر حکمران اپنی عوام کے حقوق ادا نہ کر رہے ہوں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ رعایا بھی ظلم پر اتر آئے اور اپنے حکمرانوں کے حقوق کو نظر انداز کر دے،کیونکہ ایسے جذبات کا نتیجہ ظلم و ستم اور خانہ جنگی کے علاوہ کچھ نہیں ہے، نسلیں تباہ کروانے سے بہتر ہے کہ حق تلفی پر صبر کر لیا جائے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شریعت کا کمال اور حسن یہ ہے کہ ہر وقت اور ہر مقام کے حالات سے نپٹنے کے لیے اس میں رہنمائی ملتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12079
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 7052، ومسلم: 1843 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3640 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3640»