الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الْفَضْلُ الْأَوَّلُ فِي الْأَئِمَّةِ الْمُضِلَّيْنَ كَفَانَا اللَّهُ شَرَّهُمْ باب: فصل اول: گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا بیان، اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے شر سے محفوظ رکھے
حدیث نمبر: 12074
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ الْأَئِمَّةُ الضَّالُّونَ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے تاکیداً فرمایا کہ مجھے تم پر سب سے زیادہ ڈر گمراہ حکمرانوں کا ہے۔
وضاحت:
۔
فوائد: … اَلنَّاسُ عَلٰی دِیْنِ مُلُوْکِھِمْ … لوگ اپنے بادشاہوں والا دین اختیار کرتے ہیں۔ جیسا حکمران ہو گا، ویسی رعایا ہو گی۔ ظالم و جابر حکمرانوں سے عوام بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ جو لوگ منافقت اور چاپلوسی کرتے ہوئے ان کے ساتھ مل جاتے ہیں، وہ دین و دنیا میں خسارہ اٹھاتے ہیں اور جو ان سے دور رہنے میں عافیت سمجھتے ہیں، ان کو بھی کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یا تو ان کو قید و بند کی صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یا موت کے گھاٹ اترنا پڑتا ہے، یا پھر حکمرانوں کی پابندیوں کے مطابق زندگی گزارنی پڑتی ہے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ اس حدیث سے مراد گمراہ کن مذہبی پیشوا اور مشائخ ہوں، جو اپنے مریدوں کا اعتقاد بڑھانے اور حسنِ عقیدت قائم رکھنے کے لیے ہزاروں طرح کے مکرو فریب کرتے ہیں اور اپنے مریدوں اور معتقدوں کو راضی رکھنے کے لیے ان کے خلافِ شرع کاموں پر سکوت اختیار کرتے ہیں، لعنت ہو ایسی مولویت اور مشائخیت پر، تر نوالوں کی خاطر شریعت کو مسخ کر رہے ہیں۔ آخر سلف صالحین بھی پیشوا تھے، جو اپنے لیے خود کمائی کرتے اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور رضامندی کی خاطر لوگوں کو نصیحت کرتے، وہ دنیا داروں کے خوف و خطر، پاس و لحاظ اور خفگی و ناراضگی کی کوئی پروا نہ کرتے۔
فوائد: … اَلنَّاسُ عَلٰی دِیْنِ مُلُوْکِھِمْ … لوگ اپنے بادشاہوں والا دین اختیار کرتے ہیں۔ جیسا حکمران ہو گا، ویسی رعایا ہو گی۔ ظالم و جابر حکمرانوں سے عوام بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ جو لوگ منافقت اور چاپلوسی کرتے ہوئے ان کے ساتھ مل جاتے ہیں، وہ دین و دنیا میں خسارہ اٹھاتے ہیں اور جو ان سے دور رہنے میں عافیت سمجھتے ہیں، ان کو بھی کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یا تو ان کو قید و بند کی صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یا موت کے گھاٹ اترنا پڑتا ہے، یا پھر حکمرانوں کی پابندیوں کے مطابق زندگی گزارنی پڑتی ہے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ اس حدیث سے مراد گمراہ کن مذہبی پیشوا اور مشائخ ہوں، جو اپنے مریدوں کا اعتقاد بڑھانے اور حسنِ عقیدت قائم رکھنے کے لیے ہزاروں طرح کے مکرو فریب کرتے ہیں اور اپنے مریدوں اور معتقدوں کو راضی رکھنے کے لیے ان کے خلافِ شرع کاموں پر سکوت اختیار کرتے ہیں، لعنت ہو ایسی مولویت اور مشائخیت پر، تر نوالوں کی خاطر شریعت کو مسخ کر رہے ہیں۔ آخر سلف صالحین بھی پیشوا تھے، جو اپنے لیے خود کمائی کرتے اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور رضامندی کی خاطر لوگوں کو نصیحت کرتے، وہ دنیا داروں کے خوف و خطر، پاس و لحاظ اور خفگی و ناراضگی کی کوئی پروا نہ کرتے۔