الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الْفَضْلُ الْأَوَّلُ فِي الْأَئِمَّةِ الْمُضِلَّيْنَ كَفَانَا اللَّهُ شَرَّهُمْ باب: فصل اول: گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا بیان، اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے شر سے محفوظ رکھے
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ كُنْتُ مُخَاصِرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا إِلَى مَنْزِلِهِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ ”غَيْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُ عَلَى أُمَّتِي مِنَ الدَّجَّالِ“ فَلَمَّا خَشِيتُ أَنْ يَدْخُلَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ شَيْءٍ أَخْوَفُ عَلَى أُمَّتِكَ مِنَ الدَّجَّالِ قَالَ ”الْأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ“سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو بہ پہلو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر کی طرف جارہا تھا کہ میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: دجال کے علاوہ بھی ایک فتنہ ہے، جس کا مجھے اپنی امت پر اندیشہ ہے۔ جب میں اس بات سے ڈرا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اپنے گھر میں داخل ہونے لگے ہیں تو میں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ اپنی امت پر دجال سے بھی زیادہ کس بات کا اندیشہ رکھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا۔
ماضی اورحال میں ظالم اور گمراہ حکمرانوں کے قول و کردار نے اِن احادیث ِ مبارکہ کی توضیح و تصدیق کر دی ہے۔