حدیث نمبر: 12073
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ كُنْتُ مُخَاصِرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا إِلَى مَنْزِلِهِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ ”غَيْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُ عَلَى أُمَّتِي مِنَ الدَّجَّالِ“ فَلَمَّا خَشِيتُ أَنْ يَدْخُلَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ شَيْءٍ أَخْوَفُ عَلَى أُمَّتِكَ مِنَ الدَّجَّالِ قَالَ ”الْأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو بہ پہلو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر کی طرف جارہا تھا کہ میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: دجال کے علاوہ بھی ایک فتنہ ہے، جس کا مجھے اپنی امت پر اندیشہ ہے۔ جب میں اس بات سے ڈرا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اپنے گھر میں داخل ہونے لگے ہیں تو میں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ اپنی امت پر دجال سے بھی زیادہ کس بات کا اندیشہ رکھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا۔

وضاحت:
فوائد: … دجال مسلمانوں اور کافروں دونوں کے حق میں بہت بڑی آزمائش ہو گا،مسلمانوں کے لیے موت سے پہلے اور کافروں کے لیے موت کے بعد، لیکن یہ آزمائش مسلمانوں کے لیے وقتی ہے، بالآخروہ سرمدی اور ابدی کامیابی حاصل کر لیں گے،گمراہ حکمرانوں کا مضرّ پہلو دجال کے شرّ و فساد سے بھی زیادہ ہے، کیونکہ رعایا کا جو آدمی ظالم حکمرانوں کی موافقت کرنے لگے، اس کا دین و دنیا خسارے میں پڑ جاتے ہیں اور جو ان کی مخالفت کرے، وہ مصائب کی دھونکنی میں دھونک دیا جاتا ہے یا پھر اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔
ماضی اورحال میں ظالم اور گمراہ حکمرانوں کے قول و کردار نے اِن احادیث ِ مبارکہ کی توضیح و تصدیق کر دی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12073
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21297 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21622»