حدیث نمبر: 12072
قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَعْنِي لِكَعْبٍ إِنِّي أَسْأَلُكَ عَنْ أَمْرٍ فَلَا تَكْتُمْنِي قَالَ وَاللَّهِ لَا أَكْتُمُكَ شَيْئًا أَعْلَمُهُ قَالَ مَا أَخْوَفُ شَيْءٍ تَخَوَّفُهُ عَلَى أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَئِمَّةً مُضِلِّينَ قَالَ عُمَرُ صَدَقْتَ قَدْ أَسَرَّ ذَلِكَ إِلَيَّ وَأَعْلَمَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے کہا: میں تم سے ایک بات پوچھتا ہوں، تم نے مجھ سے کوئی بات چھپانی نہیں ہے،سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں جو کچھ جانتا ہوں، اللہ کی قسم! اس میں سے کچھ بھی آپ سے نہیں چھپاؤں گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم امت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں سب سے زیادہ کس چیز سے خوف کھاتے ہو؟ انہوں نے کہا: گمراہ کرنے والے حکمرانوں سے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے درست کہا ہے،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ بات راز دارانہ انداز سے بتلائی تھی۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12072
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، زھير بن سالم لم يسمع من عمر، وقال الدارقطني: حمصي منكر الحديث ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 293 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 293»