حدیث نمبر: 12065
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”وَيْلٌ لِلْأُمَرَاءِ وَيْلٌ لِلْعُرَفَاءِ وَيْلٌ لِلْأُمَنَاءِ لَيَتَمَنَّيَنَّ أَقْوَامٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَّ ذَوَائِبَهُمْ كَانَتْ مُعَلَّقَةً بِالثُّرَيَّا يَتَذَبْذَبُونَ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَلَمْ يَكُونُوا عَمِلُوا عَلَى شَيْءٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حکمرانوں کے لیے تباہی ہے، ان کے ماتحت افسروں اور کارندوں کے لیے ہلاکت ہے، دنیا میں جن لوگوں کو امین سمجھ کر امانات ان کے سپرد کی گئیں، ان کے لیے ہدایت ہے، یہ لوگ قیامت کے دن تمنا کریں گے کہ کاش ان کے سر کے بال ثریا ستارے کے ساتھ باندھ دئیے جاتے اور یہ آسمان اور زمین کے درمیان لٹکتے رہتے اور یہ ذمہ داری قبول نہ کرتے۔

وضاحت:
فوائد: … اربابِ حکومت اور دوسرے عہدیداران اس حدیث کا بدرجۂ اتم مصداق ہیں، انتہائی شاذو نادر شخصیات کے علاوہ ہر کوئی جانبداری اور رشوت خوری میں مبتلا ہے۔ قوم کے خزانوں کے منہ مخصوص ہستیوں کے لیے کھلے ہوئے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12065
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، اخرجه الطيالسي: 2523، وابويعلي: 6217، والحاكم: 4/ 91 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10759 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10769»