الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
فَصْل فِي تَحْدِيرِ وَلَاةِ الْأُمُورِ مِنْ بِطَانَةِ السُّوْءِ، وَمَا يَحِلُّ لَهُمْ مِنْ أَمْوَالِ اللَّهِ باب: فصل: حکمرانوں کو اس بات سے ڈرانا کہ وہ برے لوگوں کو اپنے خاص مشیر بنائیں اور اس امر کا بیان کہ حکمرانوں کے لیے اللہ کے اموال کس قد ر حلال ہیں
حدیث نمبر: 12060
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَرَّتْ إِبِلُ الصَّدَقَةِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَهْوَى بِيَدِهِ إِلَى وَبَرَةٍ مِنْ جَنْبِ بَعِيرٍ فَقَالَ ”مَا أَنَا بِأَحَقَّ بِهَذِهِ الْوَبَرَةِ مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صدقہ کے اونٹ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب سے گزرے،آپ نے ایک اونٹ کے پہلو سے اون کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: اس اون کا جتنا حقدار ایک عام مسلمان ہے، میں میرا حق اس سے زیادہ حقدار نہیں ہوں۔