الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
فَصْل فِي تَحْدِيرِ وَلَاةِ الْأُمُورِ مِنْ بِطَانَةِ السُّوْءِ، وَمَا يَحِلُّ لَهُمْ مِنْ أَمْوَالِ اللَّهِ باب: فصل: حکمرانوں کو اس بات سے ڈرانا کہ وہ برے لوگوں کو اپنے خاص مشیر بنائیں اور اس امر کا بیان کہ حکمرانوں کے لیے اللہ کے اموال کس قد ر حلال ہیں
حَدَّثَنَا حَسَنٌ وَأَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هُبَيْرَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ أَنَّهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَسَنٌ يَوْمَ الْأَضْحَى فَقَرَّبَ إِلَيْنَا خَزِيرَةً فَقُلْتُ أَصْلَحَكَ اللَّهُ لَوْ قَرَّبْتَ إِلَيْنَا مِنْ هَذَا الْبَطِّ يَعْنِي الْوَزَّ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَكْثَرَ الْخَيْرَ فَقَالَ يَا ابْنَ زُرَيْرٍ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَا يَحِلُّ لِلْخَلِيفَةِ مِنْ مَالِ اللَّهِ إِلَّا قَصْعَتَانِ قَصْعَةٌ يَأْكُلُهَا هُوَ وَأَهْلُهُ وَقَصْعَةٌ يَضَعُهَا بَيْنَ يَدَيِ النَّاسِ“عبداللہ بن زریر سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں عیدالا ضحی کے روز سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ہاں گیا،انہوں نے خزیرہ ہمیں پیش کیا، میں نے عرض کیا: اللہ آپ کے احوال کی اصلاح فرمائے، اگر آپ اس بطخ کے گوشت میں سے کچھ ہمارے سامنے پیش کر دیتے تو کیا ہی اچھا ہوتا، اللہ نے آپ کو آسودہ اور خوش حال بنایا ہے، انہوں نے کہا: اے ابن زریر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: خلیفہ کے لیے اللہ کے مال یعنی بیت المال میں صرف دو پیالے لینا حلال ہے، ایک پیالہ اپنے اور اس کے اہل و عیال کے کھانے کے لیے اور دوسرا لوگوں کے سامنے پیش کرنے کے لیے۔
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ اس حدیث پر یہ عنوان قائم کرتے ہیں: مَالِلْخَلِیْفَۃِ مِنْ بَیْتِ الْمَالِ … خلیفہ کا بیت المال میں کتنا حصہ ہے۔
دراصل خلیفہ عوام کا خادم ہوتا ہے، وہ لوگوں کی مذہبی اصلاح کرتا ہے، وہ لوگوں کو امن مہیا کرتا ہے، جس کا صلہ وہ اللہ تعالیٰ سے وصول کرے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خلیفہ کو سادہ زندگی گزارنے کی رغبت دلائی۔
لیکن آج کل عہدے سنبھالنے کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ موجودہ دور کا معیار پورا کیا جائے اور مستقبل کے لیے بہت کچھ جمع کر لیا جائے، قطع نظر اس سے کہ وہ حلال ہے یا حرام، حکومتی عہدیدار اپنے ذاتی مقاصد پورے کرنے کے لیے قوم کی دولت داؤ پر لگا دیتے ہیں۔
آخرت کا معاملہ تو در کنار، جو حکمران دنیا میں اپنی نیک نامی اور اچھائی پسند کرتا ہو، اس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان اداؤں کا پابند بننا پڑے گا۔