الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
فَصْل فِي تَحْدِيرِ وَلَاةِ الْأُمُورِ مِنْ بِطَانَةِ السُّوْءِ، وَمَا يَحِلُّ لَهُمْ مِنْ أَمْوَالِ اللَّهِ باب: فصل: حکمرانوں کو اس بات سے ڈرانا کہ وہ برے لوگوں کو اپنے خاص مشیر بنائیں اور اس امر کا بیان کہ حکمرانوں کے لیے اللہ کے اموال کس قد ر حلال ہیں
حدیث نمبر: 12058
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”مَا بُعِثَ مِنْ نَبِيٍّ وَلَا اسْتُخْلِفَ مِنْ خَلِيفَةٍ إِلَّا كَانَتْ لَهُ بِطَانَتَانِ بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْخَيْرِ وَتَحُضُّهُ عَلَيْهِ وَبِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالشَّرِّ وَتَحُضُّهُ عَلَيْهِ وَالْمَعْصُومُ مَنْ عَصَمَ اللَّهُ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی نبی کو مبعوث نہیں کیا گیا اور کسی خلیفہ کو خلافت عطا نہیں کی گئی، مگر اس کے دو خاص مشیر ہوتے ہیں، ایک مشیر اسے اچھائی کا حکم دیتا ہے اور اس کی ترغیب دلاتا ہے اور دوسرا مشیر اسے برائی کا حکم دیتا اور اس پر آمادہ کرتا رہتا ہے، بہرحال معصوم وہی ہو گا، جس کو اللہ تعالیٰ بچا لے گا۔