حدیث نمبر: 12053
عَنْ أَبِي الشَّمَّاخِ الْأَزْدِيِّ عَنِ ابْنِ عَمٍّ لَهُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَتَى مُعَاوِيَةَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَنْ وَلِيَ أَمْرًا مِنْ أَمْرِ النَّاسِ ثُمَّ أَغْلَقَ بَابَهُ دُونَ الْمِسْكِينِ وَالْمَظْلُومِ أَوْ ذِي الْحَاجَةِ أَغْلَقَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى دُونَهُ أَبْوَابَ رَحْمَتِهِ عِنْدَ حَاجَتِهِ وَفَقْرِهِ أَفْقَرَ مَا يَكُونُ إِلَيْهَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

ابو الشماخ ازدی اپنے ایک چچا زاد بھائی، جو کہ صحابہ میں سے تھے، سے روایت کرتے ہیں کہ وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جو آدمی لوگوں پر حاکم بنا اور اس نے مسکین، مظلوم یا ضرورت مند سے اپنا دروازہ بند کیا، اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت اور فقر کے موقع پر اس پر اپنی رحمت کے دروازے بند کر دے گا، جبکہ وہ اس کی رحمت کا شدید محتاج ہوگا۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں جو حقیقت بیان کی گئی ہے، عصر حاضر کے بااختیار عہدیداروں نے اس کی خوب وضاحت کر دی ہے۔ غریبوں اور بے کسوں کے ساتھ ظلم اور ناانصافی کرنے والا کبھی بھی سکون کا سانس نہیں لے گا، بشرطیکہ اسے علم ہو کہ سکون اور بے سکونی کسے کہتے ہیں۔
دو جہانوں کے سردار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی یہ اجازت نہیں دی گئی کہ وہ سیدنا عبد اللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ جیسے نادار اور نابینے صحابی کی آمد پر ناخوشگواری کا اظہار کریں، لیکن دورِ حاضر کا دو ٹکے کا آدمی لولے لنگڑوں سے ہم کلام ہونا گوارہ نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ خود فیصلہ کرے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12053
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، اخرجه ابويعلي: 7378 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15941 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16037»