الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
باب: فصل: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان تم میں سے ہر کوئی نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے پوچھ گچھ ہو گی کی وضاحت
وَبِالطَّرِيقِ الثَّانِي عَنِ الْحَسَنِ قَالَ مَرِضَ مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَرَضًا ثَقُلَ فِيهِ فَأَتَاهُ ابْنُ زِيَادٍ يَعُودُهُ فَقَالَ إِنِّي مُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَنِ اسْتُرْعِيَ رَعِيَّةً فَلَمْ يُحِطْهُمْ بِنَصِيحَةٍ لَمْ يَجِدْ رِيحَ الْجَنَّةِ وَرِيحُهَا يُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ مِائَةِ عَامٍ“ قَالَ ابْنُ زِيَادٍ أَلَا كُنْتَ حَدَّثْتَنِي بِهَذَا قَبْلَ الْآنَ قَالَ وَالْآنَ لَوْلَا الَّذِي أَنْتَ عَلَيْهِ لَمْ أُحَدِّثْكَ بِهِ۔ (دوسری سند) حسن سے مروی ہے کہ سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیمار پڑ گئے، مرض شدت اختیار کر گئی، ابن زیاد ان کی تیمارداری کے لیے آئے، سیدنا معقل رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تم کو ایک حدیث سناتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کو حکمرانی ملی اور وہ اپنی رعایا کے ساتھ بھلائی نہ کرے تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا،حالانکہ اس کی خوشبو سوسال کی مسافت سے محسوس ہوجاتی ہے۔ ابن زیادنے کہا: تم نے یہ حدیث اس سے پہلے بیان کیوں نہیں کی؟سیدنا معقل رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ جس مقام پر اب ہیں، اگر اس پر نہ ہوتے تو میں اب بھی آپ کو یہ حدیث نہ سناتا۔