الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
باب: فصل: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان تم میں سے ہر کوئی نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے پوچھ گچھ ہو گی کی وضاحت
حدیث نمبر: 12050
وَعَنْهُ أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَأَى رَاعِيَ غَنَمٍ فِي مَكَانٍ قَبِيحٍ وَقَدْ رَأَى ابْنُ عُمَرَ مَكَانًا أَمْثَلَ مِنْهُ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ وَيْحَكَ يَا رَاعِي حَوِّلْهَا فَإِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”كُلُّ رَاعٍ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بکریوں کے ایک چروا ہے کو دیکھا کہ وہ انتہائی گندی جگہ بکریاں چرا رہا تھا، جبکہ وہ ا س سے بہتر جگہ دیکھ آئے تھے، اس لیے انھوں نے کہا: چرواہے! تجھ پر افسوس ہے، ان بکریوں کو یہاں سے منتقل کر کے وہاں لے جا، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ہر ذمہ دار سے اس کی رعایا کے متعلق باز پرس ہوگی۔
وضاحت:
فوائد: … بکریوں کے چرواہے پر اس کے مالک کا حق ہے کہ وہ بکریوں کو مفید مقامات پر چرائے، وگرنہ وہ خائن اور مجرم قرار پائے گا۔