حدیث نمبر: 12049
وَعَنْهُ أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”لَا يَسْتَرْعِي اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَبْدًا رَعِيَّةً قَلَّتْ أَوْ كَثُرَتْ إِلَّا سَأَلَهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَنْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَقَامَ فِيهِمْ أَمْرَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَمْ أَضَاعَهُ حَتَّى يَسْأَلَهُ عَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ خَاصَّةً“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جس بندے کو تھوڑی یا زیادہ رعایا پر حکمرانی عطا فرماتا ہے، اس سے ان کے متعلق قیامت کے روز پوچھے گا کہ اس نے ان میں اللہ کا حکم نافذ کیایا نہیں کیا، یہاں تک کہ خاص طور پر ا س سے اس کے اہل کے بارے میں بھی پوچھے گا۔

وضاحت:
فوائد: … ہمارے ملک میں ہر درپیش مسئلہ کو حکمرانوں کا جرم سمجھ لیا جاتا ہے، نہ کہ اللہ تعالیٰ کی آزمائش اور اپنے کرتوتوں کا وبال، ہر کوئی بزعم خود انسانِ کامل بنا ہوا ہے اور تمام مسائل کا کیچڑ دوسروں پر اچھالا جا رہا ہے۔ ایسے میں نہ حالات سنورتے ہیں اور نہ روح کو تسکین ملتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12049
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، اخرجه عبد الرزاق: 20650، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4637 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4637»