حدیث نمبر: 12047
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ وَاللَّهِ مَا يَأْتِي عَلَيْنَا أَمِيرٌ إِلَّا وَهُوَ شَرٌّ مِنَ الْمَاضِي وَلَا عَامٌ إِلَّا وَهُوَ شَرٌّ مِنَ الْمَاضِي قَالَ لَوْلَا شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَقُلْتُ مِثْلَ مَا يَقُولُ وَلَكِنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّ مِنْ أُمَرَائِكُمْ أَمِيرًا يَحْثِي الْمَالَ حَثْيًا وَلَا يَعُدُّهُ عَدًّا يَأْتِيهِ الرَّجُلُ فَيَسْأَلُهُ فَيَقُولُ خُذْ فَيَبْسُطُ الرَّجُلُ ثَوْبَهُ فَيَحْثِي فِيهِ“ وَبَسَطَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِلْحَفَةً غَلِيظَةً كَانَتْ عَلَيْهِ يَحْكِي صَنِيعَ الرَّجُلِ ثُمَّ جَمَعَ إِلَيْهِ أَكْنَافَهَا قَالَ ”فَيَأْخُذُهُ ثُمَّ يَنْطَلِقُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

ابو الو داک کہتے ہیں: میں نے کہا: ہمارے اوپر جو بھی حکمران آتا ہے، وہ پہلے سے بدتر ہوتا ہے اور ہر آنے والا سال بھی گزشتہ سال سے برا ہوتا ہے۔یہ سن کر سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک حدیث نہ سنی ہوتی تو میں بھی یہی کہتا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے اوپر ایک ایسا حکمران آئے گا جو خوب مال تقسیم کرنے والا ہو گا، اسے شمار تک نہیں کرے گا، جو آدمی اس کے پاس آکر سوال کرے گا، وہ کہے گا: لے جا، چنانچہ وہ آدمی اپنا کپڑا بچھا کر اسے بھر کر لے جائے گا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوپر ایک موٹی سی چادر تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بچھا کر بیان کیا کہ وہ اسے یوں بھر لے گا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چادر کے کناروں کو پکڑ کر دکھایا۔ اور فرمایا: وہ مال سے بھری چادر کو یوں لے کر چلا جائے گا۔

وضاحت:
فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۱۲۰۴۵)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس پیشین گوئی کا تعلق خاص دور سے ہے، ویسے عام تاریخی قانون یہی ہے کہ ہر آنے والے حکمران اور زمانے میں خیر کم ہو تی گئی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12047
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف مجالد بن سعيد ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11940 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11962»