الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
البابُ الثَّالِثُ فِيمَا يَجِبُ عَلَى الْإِمَامِ وَالْأَمِيرِ ، وَكُلٌ مَنْ وَلِيَ شَيْئًا مِنْ أُمُورِ النَّاسِ مِنَ الْعَدْلِ فِي رَعِيَّة وَعَدَمِ الظُّلْمِ وَالْجَوْرِ، وَأَنَّهُ مَسْئُولٌ عَنْ ذلك باب: سوم: ہر امام، امیر اور لوگوں کے معاملات کا مسئول بننے والے کی ذمہ داری ہے کہ وہ رعایا کے امور میں عدل و انصاف سے کام لے اور ظلم و جور سے بچے، بیشک اس سے اس بارے میں پوچھ گچھ ہوگی
حدیث نمبر: 12045
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ خَلِيفَةٌ يُعْطِي الْمَالَ وَلَا يَعُدُّهُ عَدًّا“ وَفِي رِوَايَةٍ ”يَقْسِمُ الْمَالَ وَلَا يَعُدُّهُ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آخری زمانہ میں ایک ایسا خلیفہ ہو گا، جو شمار کیے بغیر لوگوں کو مال عطا کیا کرے گا۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: وہ لوگوں میں اموال تقسیم کرے گا، مگر شمار نہ کرے گا۔
وضاحت:
فوائد: … درج ذیل روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس خلیفہ سے مراد امام مہدی ہیں: سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امام مہدی کا قصہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: ((فَیَجِیْئُ اِلِیْہِ الرَّجُلُ، فَیَقُوْلُ لَہُ: یَا مَھْدِیْ! اَعْطِنِیْ اَعْطِنِیْ، فَیَحْثِی لَہٌ فِیَ ثَوْبِہٖ مَا اسْتَطاعَ اَنْ یَحْمِلَہٗ۔)) … ایک آدمی اس کے پاس آ کر کہے گا: مہدی! مجھے دو، مجھے دو۔ پس وہ چلو بھر بھر کر اس کے کپڑے میں اتنا کچھ ڈال دے گا، جتنا وہ اٹھانے کی طاقت رکھتا ہو گا۔ (ترمذی، وفیہ زید العمی وھو ضعیف، وتابعہ العلابن بشیر وھو مجھول عند احمد: ۳/ ۳۷ مع تقدیم و تاخیر) مستدرک حاکم کی روایت سے مزید تائید ہوتی ہے، جس میں ہے: وہ (مہدی) لوگوں کو بہترین مال عطا کرے گا۔