الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
البابُ الثَّالِثُ فِيمَا يَجِبُ عَلَى الْإِمَامِ وَالْأَمِيرِ ، وَكُلٌ مَنْ وَلِيَ شَيْئًا مِنْ أُمُورِ النَّاسِ مِنَ الْعَدْلِ فِي رَعِيَّة وَعَدَمِ الظُّلْمِ وَالْجَوْرِ، وَأَنَّهُ مَسْئُولٌ عَنْ ذلك باب: سوم: ہر امام، امیر اور لوگوں کے معاملات کا مسئول بننے والے کی ذمہ داری ہے کہ وہ رعایا کے امور میں عدل و انصاف سے کام لے اور ظلم و جور سے بچے، بیشک اس سے اس بارے میں پوچھ گچھ ہوگی
حدیث نمبر: 12044
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ”مَا مِنْ رَجُلٍ يَلِي أَمْرَ عَشَرَةٍ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَّا أَتَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مَغْلُولًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَدُهُ إِلَى عُنُقِهِ فَكَّهُ بِرُّهُ أَوْ أَوْبَقَهُ إِثْمُهُ أَوَّلُهَا مَلَامَةٌ وَأَوْسَطُهَا نَدَامَةٌ وَآخِرُهَا خِزْيٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو حکمران دس یا اس سے زیادہ افراد پر حکومت پائے، اسے قیامت کے د ن اللہ تعالیٰ کے حضور اس حال میں پیش کیا جائے گا کہ اس کا ہاتھ اس کی گردن سے بندھا ہوا ہوگا، اس کی نیکی اس کو چھڑائے گی یا اس کا گناہ اس کو ہلاک کر دے گا، اس اقتدار کی ابتدا میں ملامت ہے، درمیان میں ندامت ہے اور اس کا انجام قیامت کے روز رسوائی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … موجودہ دور میں اس حدیث کو سمجھنا آسان ہو گیا ہے، جب ایک حکمران امارت سنبھالتا ہے تو سارے کے سارے مخالفین اور موافقین میں سے بعض افراد اس پر سب و شتم کرتے ہیں۔
جب وہ عہدہ اس سے چھن جاتا ہے، یا وہ الیکشن میں ہار جاتا ہے تو اسے جس حسرت و ندامت اور شرمندگی و پشیمانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کوئی زبان اس کو تعبیر نہیں کر سکتی اور امارت کے مکمل تقاضے پورے نہ کرنے کی وجہ سے آخرت میں بھی رسوائی و ناکامی کا سامنا پڑے ہے۔ لیکن جو حاکم اللہ تعالیٰ کے حقوق کی پاسداری کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی رعایا کے حقوق ادا کرے گا، وہ عظیم اور خوش بخت انسان ہو گا۔
جب وہ عہدہ اس سے چھن جاتا ہے، یا وہ الیکشن میں ہار جاتا ہے تو اسے جس حسرت و ندامت اور شرمندگی و پشیمانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کوئی زبان اس کو تعبیر نہیں کر سکتی اور امارت کے مکمل تقاضے پورے نہ کرنے کی وجہ سے آخرت میں بھی رسوائی و ناکامی کا سامنا پڑے ہے۔ لیکن جو حاکم اللہ تعالیٰ کے حقوق کی پاسداری کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی رعایا کے حقوق ادا کرے گا، وہ عظیم اور خوش بخت انسان ہو گا۔